Book Name:Wasail e Bakhshish

قابلِ رشک ہیں   عطارؔ وہ قسمت والے

دَفن جو میٹھے مدینے میں   ہوا کرتے ہیں 

 

اک بار پھرمدینے عطّاؔرجارہے ہیں 

اک بار پھر مدینے عطارؔ جا رہے ہیں 

آقا مدینے والے در پر بلا رہے ہیں 

قسمت کو اس تصوُّر سے وَجد آرہے ہیں 

رَحمت کی بھیک دینے آقا بلا رہے ہیں 

وہ فیض کا خزانہ ہر دم لٹا رہے ہیں   

انوار ہر طرف ہی طیبہ میں   چھا رہے ہیں 

جو کوئی ان کے غم میں   آنسو بہا رہے ہیں   

جینے کا لُطف ایسے عُشّاق پا رہے ہیں 

جس دم مدینے آئیں   رَوئیں   پچھاڑیں   کھائیں   

ہم مانگ تم سے آقا ایسی ادا رہے ہیں 

حُسنِ عمل ہمارے پلّے میں   کچھ نہیں  ہے

آہوں   کی آنسوؤں   کی سوغات لا رہے ہیں 

 

منظر ہے روح پرور روضے کی جالیوں   پر

عُشاق آنسوؤں   کے موتی لٹا رہے ہیں   

آقابہیں   یہ آنکھیں   بس آپ ہی کے غم میں   

ہائے ہمیں   زمانے کے غم رُلا رہے ہیں   

اِذنِ خدا سے ہو تم مختارِ ہر دوعالم

دونوں   جہاں   تمہاری خیرات کھا رہے ہیں   

دستور ہے کہ جس کا کھانا اُسی کا گانا

 



Total Pages: 406

Go To