Book Name:Wasail e Bakhshish

مِعراج کی شب تو یاد رکھا پھر حشر میں   کیسے بھولیں   گے

عطارؔ اِسی اُمّید پہ ہم دن اپنے گزارے جاتے ہیں 

 

جو سینے کو مدینہ ان کی یادوں   سے بناتے ہیں 

جو سینے کو مدینہ اُن کی یادوں  سے بناتے ہیں 

وُہی تو زندَگانی کا حقیقی لُطف اٹھاتے ہیں 

جو اپنی زندگی میں   سنّتیں   اُن کی سجاتے ہیں 

انہیں   پیارا محمد مصطَفٰے اپنا بناتے ہیں 

غمِ سَروَر میں   رونے کا قرینہ یاالٰہی دے

مجھے افسوس بے جا غم زمانے کے رُلاتے ہیں   

جو دیدارِمحمد کی تڑپ رکھتے ہیں   سینے میں 

نبیِّ پاک ان کو خواب میں   جلوہ دکھاتے ہیں   

زمانہ جس کو ٹھکرادے، ہر اک دُھتکار دے ایسے

نکمّے سے نکمّے کو بھی سینے سے لگاتے ہیں 

نہ کیوں   قربان ہو جاؤں   میں  ان کی شانِ رحمت پر

وہ بڑھ کر تھام لیتے ہیں   قدم جب لڑکھڑاتے ہیں 

 

جب اُن کے سامنے لال آمِنہ کا مسکراتا ہے

غم و آلام کے مارے ہوئے غم بھول جاتے ہیں   

بِاِذنِ اللّٰہ ساری نعمتوں   کے ہیں   وُہی قاسم

ہمیں   آقا کھلاتے ہیں   ہمیں   آقا پلاتے ہیں  ([1])

 



[1]     سرکارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالی شان ہے : ’’اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّ اللّٰہُ یُعْطِیْ‘‘یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ عطا کرتا ہے اور میں   تقسیم کرتا ہوں  (صَحیح بُخاری ج ۱ ص۴۳حدیث۷۱) اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت سیِّدُنامفتی احمد یارخان  علیہ رحمۃُ الحنّان   فرماتے ہیں   کہ دین و دنیا کی ساری نعمتیں   علم ، ایمان، مال، اولاد وغیرہ دیتااللّٰہ ہے بانٹتے حضور ہیں   جسے جو ملا حضور کے ہاتھوں   ملا کیونکہ یہاں  نہاللّٰہ کی دَین میں   کوئی قید ہے نہ حضور کی تقسیم میں  ۔ ( مراۃ المناجیح ج ۱ص ۱۸۷)

 اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں  :

 رب ہے مُعطی یہ ہیں   قاسم       رِزق اُس کا ہے کِھلاتے یہ ہیں    

 (حدائقِ بخشش)

 



Total Pages: 406

Go To