Book Name:Wasail e Bakhshish

اے کاش! تڑپ کر میں   سرکار لگوں   گرنے                     اور آپ مجھے بڑھ کر لیں   تھام مدینے میں

بُلوا کے بقیع آقا حَسنَین کے صدقے میں                          عیدی میں   عطا کر دو اِنعام مدینے میں

 

وہ اپنے غلاموں   کو شفقت سے پلاتے ہیں            بھر بھر کے مئے الفت کے جام مدینے میں

انساں   کے بجائے میں   اے کاش! مقدَّر سے           ہوتا کوئی ادنیٰ سگ([1])گمنام مدینے میں

جب شاہِ مدینہ نے پردہ کیا دنیا سے                 وَاللّٰہ گیا  تھا  مچ  کُہرام  مدینے  میں

عطارؔ پہ اب ایسا اے کاش! کرم ہو جائے

مکّے میں   سَحَر گزرے تو شام مدینے میں

 

ہیں  صَف آرا سب حُور وملک اور غِلماں   خُلد سجاتے ہیں([2])    

ہیں  صَف آرا سب حُور وملک اور غِلماں   خُلد سجاتے ہیں 

اِک دھوم ہے عرشِ اعظم پرمِہمان خُداکے آتے ہیں 

ہے آج فلک روشن روشن ، ہیں   تارے بھی جگمگ جگمگ

محبوب خُدا کے آتے ہیں   محبوب خُدا کے آتے ہیں 

 



[1]     اپنے آپ کو سگِ مدینہ کہنا کہلوانا عاشِقانِ رسول کا طُرَّۂ امتیاز ہے چُنانچِہ عارِف بِاللّٰہ سیِّدی امام عبد الرحمن جامی ؔ قدس سِرُّہُ السَّامی بارگاہِ رسالت میں   عرض کرتے ہیں  :   ؎

 سَگَتْ را کاش جامیؔ نام بُودے                       کہ آید بَرزَبانت گاہے گاہے

(یعنی کاش آپ کے کُتّے کا نام جامیؔ ہوتا تاکہ کبھی کبھی آپ کی زَبانِ پاک پر آجاتا) بطورِ عاجزی خود کو غیر انسان کہنے میں   عَظَمتِ انسانی کی کوئی توہین نہیں  ، حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے فرمایا: کاش !میں  کسی راستے کے کَنارے پر کوئی دَرَخت ہوتا، وہاں   سے کسی اُونٹ کا گزرہوتا، وہ مجھے منہ میں   ڈالتا چباتا پھر نگل جاتا۔اے کاش! میں   انسان نہ ہوتا۔(مُصَنَّف ابن ابی شَیبۃج۸ ص ۱۴۴)حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے ارشاد فرمایا:کاش! میں   انسان نہ ہوتا۔ (حلیۃالاولیاء ج۱ ص۸۸ رقم۱۳۶)حضرتِ عائشہ صِدّیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہانے خوفِ خدا کے باعث بجائے انسان کے کبھی دَرَخت،کبھی دَرَخت کے ایک پتّے توکبھی گھاس تو کبھی خاک کی صورت میں   پیدا ہونے کی آرزو فرمائی۔(الطبقات الکبری ج ۸ ص ۵۹،۶۰ملخصاً) تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’ سگِ مدینہ کہنا کیسا؟‘‘ کا مطالعہ فرمایئے۔

 

[2]     دعوتِ اسلامی کے قِیام سے کئی برس قبل ایک مشاعرے میں   حصہ لینے کے لئے اِس مصرعۂ طرح :’’اک دھوم ہے عرشِ اعظم پر مہمان خدا کے آتے ہیں  ‘‘ پرگرہ لگا کر چند اشعار موزوں   کئے تھے ۔ دعوتِ اسلامی کے معرضِ وجود میں   آنے کے بعد کسی موقع پر ایک شاعر سے اصلاح کروائی تھی، اصلاح کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے بعض مصرعے بھی ’’چُست‘‘ کروائے گئے تھے۔ اپنی یاد داشت کے مطابق اُن کے عطا کردہ مصرعے ’’جَلی‘‘ کر دیئے ہیں   ۔              سگ مدینہ عفی عنہ

 



Total Pages: 406

Go To