Book Name:Wasail e Bakhshish

بُلا لو  ہم  غریبوں    کو  بُلا  لو  یارسولَ اللّٰہ

پئے شَبِیّر و شَبَّر فاطِمہ  حیدر  مدینے میں 

خدایا واسطہ دیتا ہوں   میرے غوثِ اعظم کا

دکھا دے سبز گنبد کا حسیں   منظر مدینے میں   

وسیلہ تجھ کو بوبکر و عمر، عثمان و حیدر کا

الٰہی تُو عطا کر دے ہمیں   بھی گھر مدینے میں   

مدینے جب میں   پہنچوں  کاش ایسا کیف طاری ہو

کہ روتے روتے گرجاؤں   میں  غش کھا کر مدینے میں   

نِقابِ رُخ الٹ جائے ترا جلوہ نظر آئے

جب آئے کاش! تیرا سائلِ بے پر مدینے میں   

جو تیری دید ہو جائے تو میری عید ہو جا ئے

غم اپنا دے مجھے عیدی میں   بلوا کر مدینے میں

 

مدینے جوں   ہی پہنچا اشک جاری ہوگئے میرے

دمِ رخصت بھی رویا ہچکیاں   بھر کر مدینے میں   

مدینے کی جدائی عاشقوں   پر شاق ہوتی ہے

وہ روتے ہیں   تڑپ کر ہچکیاں   بھر کر مدینے میں 

کہیں  بھی سوز ہے دنیا کے گلزاروں   میں   باغوں   میں  ؟

فَضا پُرکیف ہے لو دیکھ لو آکر مدینے میں   

وہاں   اک سانس مل جائے یِہی ہے زِیست کا حاصل

وہ قسمت کا دھنی ہے جو گیا دم بھر مدینے میں 

مدینہ جنَّتُ الفردوس سے بھی اَولی و اعلیٰ

رسولِ پاک کا ہے روضۂ انور مدینے میں   

چلو چوکھٹ پہ ان کی رکھ کے سرقربان ہو جائیں 

حیاتِ جاوِدانی پائیں   گے مر کر مدینے میں 

مدینہ میرا سینہ ہو مرا سینہ مدینہ ہو

 



Total Pages: 406

Go To