Book Name:Wasail e Bakhshish

اور حُضورِ پُرنورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ثنا خوانی اورمَحَبَّت اعلیٰ درجے کی عبادت اور ایمان کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے لہٰذا جب بھی اجتِماع ذکر ونعت میں   حاضری ہو تو با ادب رَہنا چاہئے اور مقصود رِضائے الٰہی ہو۔ جہاں   اختِتام پر لنگر وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہوا یسی جگہ تاخیر سے پہنچنا سخت مَعْیوب اور اپنے لئے غیبت، تہمت اور بد گمانی کا دروازہ کھولنے کا سبب ہے ایسوں   کے بارے میں   بسا اوقات اِس طرح کی گناہوں   بھری باتیں   کی جاتی ہیں  ، کھانے کا لالچی ہے، کھانے کے وقت ہی پہنچتا ہے وغیرہ۔ ہاں  جو مجبور ہے وہ معذور ہے۔

نعت خواں   کی حکایت

         اب مخلص نعت خواں   کی فضیلت اور معمولی سی بے احتیاطی کی شامت پر مُشتِمل نہایت ہی عبرت آموزحکایت مُلاحظہ فرمایئے ، چنانچِہ حضرت سیِّدُنا محمد بن ترین ’’مدّاحِ رسول ‘‘(یعنی نعت خواں) کے متعلّق مشہور ہے کہ انہیں   جاگتے میں حُضُور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی آمنے سامنے زیارت ہوتی تھی ۔ جب وہ صبح کے وقت روضۂ اطہر حاضر ہوئے تو حضورانورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان سے اپنی قبرِ انور میں   سے کلام فرمایا۔ یہ نعت خواں   اپنے اسی مقام پر فائز رہے حتّٰی کہ ایک شخص نے ان سے درخواست کی کہ شہر کے حاکم کے پاس اس کی سفارش کریں   آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحاکم کے پاس پہنچے اور سفارش کی ۔اس حاکم  نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو اپنی مسند پر بٹھایا ۔تب سے آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زیارت کا سلسلہ خَتم ہو گیا پھر یہ ہمیشہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   زیارت کی تمنّا پیش کرتے رہے مگر زیارت نہ ہوئی۔ایک مرتبہ ایک شِعر عرض کیا تو دُورسے زیارت ہوئی ، حضورِاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ ظالموں   کی مَسنَد پر بیٹھنے کے ساتھ میری زیارت چاہتا ہے اس کا کوئی راستہ نہیں  ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا علی خواصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں   کہ پھر ہمیں   ان بُزُرگ(نعت خواں  ) کے متعلق خبر نہ ملی کہ ان کو سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زیارت ہوئی یا نہیں   حتّٰی کہ ان کا وصال ہو گیا ۔ (میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۸)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔  اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

                جو لوگ ذاتی مَفاد کی خاطر اربابِ اقتِدار کے آگے پیچھے پھرتے ، کبھی کسی وزیر یا صدر وغیرہ کے یہاں   موقع ملے تو اُڑتے ہوئے حاضِر ہو جاتے، صدر تمغا پہنا دے یا ہاتھ ملا لے تو اُس کی تصویر آویزاں   کرتے دوسروں   کو دکھاتے اور اس کو بہت بڑااعزاز تصوّر کرتے ہیں   اُن کیلئے گزشتہ حکایت میں   بہت کچھ درسِ عبرت ہے      

اَلْعَاقِلُ تَکْفِیْہِ الْاِ شَارَۃُ          یعنی عقلمند کیلئے اشارہ کافی ہے ۔

        پیارے نعت خواں  !اگر آپ روحانیّت چاہتے ہیں   ، تو سامِعین کی کثرت و قلِّت کو مت دیکھئے، چاہے ہزاروں   



Total Pages: 406

Go To