Book Name:Wasail e Bakhshish

چھائی ہے مِرے رخ پہ گناہوں   کی سیاہی

مَقسوم([1])نہ ہو جائے کہیں   بھائی تباہی

کر عرض، انہیں   آتا ہے تقدیر بنانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

کہنا کہ ندامت اسے عصیاں   پہ  بڑی ہے

دَہلیز([2])پہ موت آکے شہا اس کے کھڑی ہے

تم نَزع میں   دیدار کا جام اِس کو پلانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

کہتا تھا کراچی میں   نہیں   مجھ کو ہے مرنا

رو رو کے گزارش تُو یہ سرکار سے کرنا

سلطانِ مدینہ اِسے قدموں   میں  سُلانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

تو دعوتِ اسلامی کے حق میں  یہ دعا دے

اسلام کا ڈنکا یہ زمانے میں   بجا دے

فرمائیں   کرم اِس پہ شہنشاہِ زمانہ

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

جب گنبدِ  خضرا  کو نظر جھوم کے چومے

آجائے تجھے وَجْد تُو بے ساختہ جھومے

کہنا: کَہَیں ([3])، عطارؔ ہمارا ہے دِوانہ

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

 



[1]     حصّہ ۔ نصیب ۔ مقدَّر    ۔

[2]     دروازہ ۔

[3]     یہاں   مُراد ہے، ’’یارسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلَّم ارشاد فرما دیجئے۔‘‘۔



Total Pages: 406

Go To