Book Name:Wasail e Bakhshish

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

سکرات کے صدمے مِرے بس میں   نہیں   سہنا

کہتا تھا: تو سرکار سے رو رو کے یہ کہنا

جلوہ بھی دکھانا مجھے کلمہ بھی پڑھانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

کہتا تھا بُرے خاتمے کا خوف بڑا ہے

دیکھا  ہے اسے بار ہا یہ رو بھی پڑا ہے

یارب اسے ایمان پہ دُنیا سے اٹھانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

 

نادِم ہے مزید اِس کو  تُو شَرمندہ نہ کرنا

بے پوچھے ہی دے بخش قیامت میں   نہ دھرنا ([1])

کر عرض خدا سے اِسے جنّت میں   بسانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

جب تک ہو مدینے میں   مُیسَّر تجھے رہنا

رو رو کے سلام اُن سے مِرا روز تو کہنا

خیرات شَفاعت کی تَبَرُّک میں   لے آ نا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

اخلاص کی اللّٰہ اسے کر دے عطا بھیک

اور غصّے کی عادت ٹلے اَخلاق بھی ہوں   ٹھیک

حَسَنین کے صدقے اِسے ہنس مُکھ تو بنانا

اے عازمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

 

 



[1]     گرفتار کرنا ۔



Total Pages: 406

Go To