Book Name:Wasail e Bakhshish

تُو جو چاہے تومِری آنکھ سے پردے اُٹّھیں 

میں   وطن سے بھی مدینے کا نظارہ دیکھوں 

وہ کھلاتے ہیں   پِلاتے ہیں   نبھاتے بھی ہیں   

کیوں   کہیں   جاؤں   کسی اور طرف کیا دیکھوں 

اپنی رَحمت سے مجھے کر دو عطا ایسی بہار

منہ کبھی بھی نہ خَزاں   کا مِرے آقادیکھوں 

تیرے اِحسان کروڑوں   ہیں   ہو یہ بھی اِحساں 

یا خدا نَزْع میں   جلوہ میں   نبی کا دیکھوں 

باغِ جنّت میں   جَوار([1]) اپنا عطا فرما دو

خُلد میں  ہر گھڑی جلوہ میں   تمہارا دیکھوں 

دوڑ کر قدموں   میں   عطارؔ گروں   میں   اُس دم

حَشر میں   جس گھڑی سرکار کو آتا دیکھوں 

طیبہ کے مسافِر مجھے تو بھول نہ جانا اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

(۲۸ اور ۲۹ ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۳۱ھ کو یہ کلام مَوزُوں   کیا گیا)

طیبہ کے مسافِر مجھے تو بھول نہ جانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

رو رو کے نبی کو مِری رُوداد([2]) سنانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

ہو مجھ پہ کرم صدقے میں   سلطانِ  دَنا کے

دکھلا دے مناظر مجھے عرفات و منیٰ کے

کہتا تھا پھر اللّٰہ مجھے حج پہ بلانا

اے عازِمِ طیبہ! میں   طلبگارِ دعا ہوں 

بے چارہ مدینے سے بَہُت دُور پڑا ہے

بدکار سہی پر تِرا دیوانہ بڑا ہے

 



[1]     پڑوس ۔

[2]     کیفیت ۔



Total Pages: 406

Go To