Book Name:Wasail e Bakhshish

بِسکِٹ وَغَیرہ اِس کا اَجْر ہوجائیگا {4} اگر عام دعوت ہو(یعنی وہ نعت خواں   غیرحاضِر ہوتا جب بھی یہ دعوت ہوتی)تو اب ضِمناًان مذکورہ اَفراد کوکھلانے اور ان اَفراد کے کھانے میں   کوئی مُضایَقہ نہیں  {5}اگر دعوت تو عام ہو مگر قاری یا نعت خواں   کے لیے خُصُوصی کھانے کا اِہتِمام ہو مَثَلاً لوگوں   کیلئے صِرْف بریانی اور ان کے لیے سَلَاد، رَائِتے اور چائے کا بھی اِہتِمام ہو یا دِیگر لوگوں   کو ایک ایک حصّہ اور ان کو زِیادَہ دیا جائے تو وہ خُصُوصیّت و زِیادَت (یعنی مخصوص غذا اور اضافہ) اُجرت ہونے کے باعث فریقین کے لیے ناجائز وحرام اور جہنَّم میں   لے جانے والا کام ہے ۔لیکن یہ یاد رہے کہ اس میں   بھی وُہی شرط ہے کہ پہلے سے صراحتا ًیا دَلالتاًطے ہو تب حرام ہے ورنہ اگر طے نہ تھا اور اس کے بِغیر ہی اہتمام ہوا تو پھر جائز ہے۔

کیا ہر حال میں   دعوت قَبول کرنا سنّت ہے؟

        اگر نعت خواں   اورقاری صاحِبان یہ کہیں  کہ ہم نے نہ تو اس خُصُوصی دعوت کے لیے کہا تھا اور نہ ہی اُجْرَت کے طور پر کھاتے ہیں   بلکہ دعوت قَبُول کرنا سُنّت ہے اس لئے تبرّک سمجھ کر نیازکھالیتے ہیں   ، ایسا کہنے والوں   کوغور کرنا چاہیے کہ اگر کسی اجتماعِ ذِکر ونعت کے موقع پر نیاز کے نام پر([1])

’’ خُصُوصی دعوت‘‘ نہ کی جائے تو کیا اپنی دِلی کَیفِیات میں   تبدیلی نہیں   پاتے ؟ کیا انہیں   اس بات کا اِحساس نہیں   ہوتا کہ کیسے عَجیب(بلکہمَعاذَاللّٰہ) کنجوس لوگ ہیں   کہ پانی تک کا نہیں   پوچھا ؟ کیا آئندہ اس جگہ پر نعت خوانی کے لیے آنے میں   بے رغبتی نہیں   ہو گی؟ اگر مذکورہ افراد اپنی دِلی کَیفِیات تبدیل نہیں   پاتے اور آنے والے وساوس کو نفس وشیطان کی شرارت قرار دیتے ہوئے ضِیافَت نہ کرنے والے کی کسی کے سامنے نہ شکایت کرتے ہیں   نہ ہی آئِندہ ایسی جگہ جانے سے کترانے ہیں   ، نیز دیگر غریب اسلامی بھائیوں   کی دعوت قبول کرنے میں   بھی پَس و پیش سے کام نہیں  لیتے تو ان پر آفرین ہے ، ایسے نعت خواں   قابِلِ سِتائِش ہیں   مگر دلوں   کی حالت ایسی ہوتی ہے …یا نہیں  ؟ یہ قاری و نعت خواں   حضرات خوب جانتے ہیں  ، اپنے دل کی گہرائی میں   جھانک کر اس کا فیصلہ خود ہی کرلیں   ۔    ع

 شاید کہ اتر جائے ترے دل میں   مری بات

وَسوسوں   میں   مت آئیے

        محترم نعت خواں   !ممکن ہے شیطان آپ کو طرح طرح کے وَسوسے ڈالے ، بہکائے اور یہ باوَر کروانے کی



[1]     اہلُ اللّٰہکے ایصالِ ثواب کیلئے نیاز کرنا بڑی نیکی ہے، مگر اُجرت کے حکم میں   آنے والی خصوصی دعوت کو نیاز کا نام نہیں   دیا جا سکتا۔

 



Total Pages: 406

Go To