Book Name:Wasail e Bakhshish

جلوۂ محبوب میں   انجام میرا ہو بخیر

فالتو باتوں   کی عادت دُور ہو جائے حُضُور!

ہو زباں   پر میری اکثر آپ ہی کا ذکرِ خیر

عائد آقا فردِ عصیاں   ہو گئی کر دے کرم

کون ہے جو بخشوائے گا مجھے تیرے بِغیر

تیز ہے تلوار کی بھی دھار سے یہ پُلْ صراط

تم سنبھالا دو کہیں   جائے پھسل میرا نہ پَیر

اُمّتِ محبوب کا یارب بنا دے خیر خواہ

 نفس کی  خاطِر کسی سے دل میں    میرے  ہو  نہ  بَیر

جام ایسا اپنی الفت کا پِلا دے ساقیا

نعت سن کر حالتِ عطّارؔ ہو رو رو کے غَیر

 

ظُلمتِ دنیا مجھے تنہا سمجھ کر یُوں    نہ  گھیر

ظلمتِ دنیا مجھے تنہا سمجھ کر یُوں    نہ  گھیر

ماہِ طیبہ کی تجلّی میں   نہیں   کچھ لگتی دیر ([1])

یانبی تیری دُہائی آفتوں   میں   گِھر گیا

رُخ بدل دے مشکلِوں   کا اور بلائیں   مجھ سے پھیر

گنبدِ خضرا کو دیکھے ایک عرصہ ہو گیا

کب کُھلے گی میری قسمت اب لگے گی کتنی دیر!

نفس و شیطاں   پر مجھے غَلبہ عطا کر یاخدا

اُس علی کا واسِطہ دیتا ہوں   جو ہے تیرا شیر

آہ !میزاں   پر کھڑا ہوں   شافعِ محشر کرم!

نیکیاں   پلّے نہیں   ہیں   بس گناہوں   کا ہے ڈھیر

نارِ دوزخ میں   نہ لے جائے کہیں   مالِ حرام

کر لو توبہ چھوڑ دو اے بھائیو !سب ہیر پھیر

سب کو مرنا ہی پڑیگا یاد رکّھو بھائیو!

دیر میں   جائیگا کوئی ، کوئی چلدے گا سَویر

یاخدا عالَم میں   اونچا پرچمِ اسلام ہو

دشمنانِ دیں   مسلمانوں   سے ہوں   مغلوب وزیر

عشقِ احمد ہی سے عطاّرؔ آدَمی ہے آدمی

ورنہ یہ مِٹّی کا پُتلا ہے فَقَط مٹّی کا ڈھیر ([2])

 

 



[1]     دونوں   اشعار ’’مفتش نے موزوں   کئے ہیں   ۔

[2]     دونوں   اشعار ’’مفتش نے موزوں   کئے ہیں       ۔



Total Pages: 406

Go To