Book Name:Wasail e Bakhshish

عطارؔ کر رہا ہے یہ رو رو کے التجا

پھر سے بلائیے گا مدینے میں   جلد تر

 

لِکھ رہا ہوں   نعتِ سَرور سبز گُنبد دیکھ کر

لِکھ رہا ہوں   نعتِ سَرور سبز گُنبد دیکھ کر

کیف طاری ہے قلم پر سبز گُنبد دیکھ کر

ہے مُقدّر یَاوَری پر سبز گُنبد دیکھ کر

پھرنہ کیوں   جُھومے ثَنا گر سبز گُنبد دیکھ کر

مسجدِنبوی پہ پہنچے مَرحَبا صلِّ عَلیٰ

ہوگیا جاری زَباں   پر سبز گُنبد دیکھ کر

جُوں   ہی میں   پہنچا مدینے کی گلی میں   بیقرار

آنکھ میری ہوگئی تَر سبز گُنبد دیکھ کر

رُوح کو تسکین جَانِ مُضْطَرِبْ کو چَین ہے

دِل کو بھی رَاحت مُیَسَّر سبز گُنبد دیکھ کر

انکے منگتے، انکے سائل دوجہاں   کی نعمتیں   

مانگتے ہیں   ہاتھ اُٹھا کر سبز گُنبد دیکھ کر

 

آپ سے بس آپ ہی کو مانگتا ہے یانبی!

آپ کا ادنیٰ گداگر سبز گُنبد دیکھ کر

لندن و پیرس کا عاشق بھی یقینا مَرحَبا!

بول اُٹھے گا روح پَرور سبز گُنبد دیکھ کر

دُھوپ روزانہ مدینہ جھوم کر ہے چُومتی

اور لپٹ جَاتی ہے آکر سبز گُنبد دیکھ کر

چُوم لیتا ہے مدینہ روز آکر آفتاب

 



Total Pages: 406

Go To