Book Name:Wasail e Bakhshish

بے عدد تیری عطائیں   رَحمتیں   ہیں   بے شمار

جو تڑپتے ہیں   مدینے کی زیارت کے لیے

ان کو بھی آقا دکھادو تم مدینے کی بہار

ہو مِرا سینہ مدینہ تاجدارِ انبیا

دل میں   بس جائے ترا جلوہ شہِ عالی وقار

ازپئے غوث و رضا مسکَن مدینہ دو بنا

کاش ہو مدفَن مدینہ از طفیلِ چار یار

گھومتے رہتے ہو تم آقا کی گلیوں   میں   سدا

تم پہ ہو جاؤں   تصدُّق اے سگانِ کوئے یار

 

بُلبلو تم کو مبارَک پھول، پر میری نظر

میں   مدینے کی حسیں   وہ جھاڑیاں   ہیں   خاردار

آج کے اس سنّتوں   کے اجتماعِ پاک میں 

جو بھی آیا بخش دے اس کو مرے پروردگار([1])

کچھ تو کر احساس بھائی چھوڑ نافرمانیاں 

غم میں   آقا اپنی اُمّت کے ہیں   ہوتے بے قرار

میرے غیرت مند بھائی مت مُنڈا داڑھی کو تو

یاد رکھ یہ دشمنانِ مصطَفٰے کا ہے شِعار([2])

چھوڑ اَنگریزی طریقے اور فیشن چھوڑ دے

بھائی کرلے سنّتوں   سے خوب رِشتہ اُستُوار ([3])

دے شَرَف عطارؔ کو ہرسال حج کا یاخدا

ہر برس اِس کو دکھا میٹھے مدینے کا دِیار([4])

 



[1]     یہ کلام ’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے ۱۴۱۱ ھ کے سالانہ اجتماع(منعقدہ بابُ المدینہ کراچی) کے موقع پر پیش کیا گیا تھا لہٰذا شرکائے اجتماع کیلئے بھی دعائیہ شعر شامل کیا گیا ہے ۔سگ مدینہ  عُفِیَ عَنْہُ             ۔

[2]     مضبوط ۔

[3]     شہر۔عَلاقہ ۔

[4]     زخمی۔بیقرار ۔



Total Pages: 406

Go To