Book Name:Wasail e Bakhshish

عطّاریوں   کے ساتھ ہے ہر قادِری کے ساتھ

ایسا کرم ہو نیکیوں   میں   دِل لگا کرے

پڑھتا ہوں   گر نَماز بھی تو بے دِلی کے ساتھ

 

اے ذُوالْجلال تجھ سے مِرے دو سُوال ہیں 

طیبہ میں   موت، زندگی گزرے خوشی کے ساتھ

اِک بار مسکرا کے مجھے دیکھ لیجئے

دم توڑ دوں   گا قدموں   میں   وارفتگی کے ساتھ

مایوس کیوں   ہو عاصِیو! تم حوصَلہ رکھو

رَب کی عطا سے انکا کرم ہے سبھی کے ساتھ

خطبہ، اذاں  ، نَماز، عبادت کوئی سی ہو

ذکرِ نبی ضَرور ہے ہر بندگی کے ساتھ

تم مَدنی قافِلوں   میں   اے اسلامی بھائیو!

کرتے رہو ہمیشہ سفر خوشدِلی کے ساتھ

اپنائے جو سدا کیلئے ’’سنّتِ نبوی‘‘

میری دعا ہے خُلد میں   جائے نبی کے ساتھ

اسلامی بھائی، ’’دعوتِ اِسلامی‘‘ کا سدا

تم مَدنی کام کرتے رہو تَندَہی کے ساتھ

سرکار حاضِری ہو مدینے کی بار بار

عطارؔؔ کی ہے عرض بڑی عاجِزی کے ساتھ

 

مرحبا صد مرحبا صلِّ علٰی خوش آمدید

 ( ۱۶ صفر المظفر ۱۴۲۶ھ)

مرحبا صد مرحبا صلِّ علیٰ خوش آمدید

آمدِ نورِخدا صلِّ علیٰ خوش آمدید

یاحبیبِ کبریا صلِّ علیٰ خوش آمدید

تاجدارِ انبیا صلِّ علیٰ خوش آمدید

اے مِرے مُشکِل کُشا صلِّ علیٰ خوش آمدید

 



Total Pages: 406

Go To