Book Name:Wasail e Bakhshish

ٹھیک نہیں   ، گلا خراب ہوگیا ہے وغیرہ زَبان یا اشارے سے کہنا ممنوع و ناجائز اور حرام ہے۔

ناجائز نذ رانہ دینی کام میں   صَرْف کرنا کیسا؟

         اگر کوئی نعت خواں   صَراحۃً یا دَلالۃً ملنے والی اُجرت یا رقم کا لفافہ لیکر مسجِد، مدرَسے یا کسی دینی کام میں  صَرْف کر دے تب بھی اُجرت لینے کا گناہ دُور نہ ہوگا۔ واجِب ہے کہ ایسا لفافہ یاتحفہ وغیرہ قَبول ہی نہ کرے۔اگر زندگی میں   کبھی قَبو ل کر کے خود استِعمال کیا یا کسی نیک کام مَثَلاً مدرسے وغیرہ میں   دے دیا ہے تو ضروری ہے کہ توبہ کرے اور جس جس سے جو لیا ہے اُس کو واپس لوٹائے ، وہ نہ رہے ہوں  تو اُن کے وارثوں   کو دے وہ بھی نہ رہے ہوں  یا یاد نہیں   تو فقیر پر تصدُّق ( یعنی خیرات ) کرے ۔ہاں   چاہے تو پیش کرنے والے کو صِرْف مشورہ دے دے، کہ آپ اگر چاہیں   تو یہ رقم خود ہی فُلاں   نیک کام میں   خرچ کر دیجئے۔

سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے چادر  عطا فرمائی

           سرکارِ مدینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنی نعت شریف سُن کر سیِّدُنا امام شَرَفُ الدّین بُو صیری علیہ رحمۃُ اللّٰہ القوی  کوخواب میں   ’’ بُردِ یَمانی‘‘ یعنی ’’یَمَنی چادر ‘‘ عنایت فرمائی اور بیدار ہونے پر وہ چادرمبارک اُن کے پاس موجود تھی۔ اسی وجہ سے اس نعت شریف کا نام قصیدۂ بُردہ شریف مشہور ہوا ۔اگر اس واقِعے کو دلیل بنا کر کوئی کہے کہ نعت خوا ں   کو نذرانہ دینا سنَّت اورقَبول کرنا تبُّرک ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک سرکارِ دو عالم ، نورِ مجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکاعطا فرمانا سر آنکھوں   پر ۔ یقینا سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اقوال و افعالِ مبارَکہ عین شریعت ہیں  ۔ مگر یاد رہے !سرکار ِ عالم مدار، شَہَنْشاہِ اَبرارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بُردِ یَمانی عطا کرنے کا طے نہیں   فرمایا تھا نہ ہی مَعاذاللّٰہ امام بُوصیری علیہ رحمۃُ اللّٰہ القوینے شَرْط رکھی تھی کہ چادر ملے تو پڑھوں   گا بلکہ اُن کے تو وہم و گمان میں   بھی نہیں   تھا کہ بُردِیمانی عنایت ہو گی۔ آج بھی اس کی تو اجازت ہی ہے کہ نہ اُجرت طے ہو اور نہ ہی دَلالۃً ثابِت( یعنی UNDER STOOD) ہواور نعت خواں   کے وہم و گمان میں   بھی نہ ہو ا ور اگر کوئی کروڑوں   روپے دیدے تو یہ لینا دینا یقینا جائز ہے اور جس خوش نصیب کو سردارِ مکۂ مکرّمہ ، سرکار مدینۂ منوّرہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکچھ عطا فرما دیں  ، خدا کی قسم ! اُس کی سَعادتوں   کی معِراج ہے ۔ اور رہا سرکار نامدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مانگنا، تو اس میں   بھی کوئی مُضایَقہ نہیں  اور اپنے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مانگنے میں   نعت خواں   و غیر نعت خواں   کی کوئی قید بھی نہیں   ،  ہم تو انہیں   کے ٹکڑوں   پہ پل رہے ہیں۔سرکارِ والا تبارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عنایت نشان ہے:  اِنَّمَا اَنَا قاسِمٌ وَّ اﷲُ یُعْطِیْ یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عطا کرتا ہے اور میں   تقسیم کرتا ہوں  ۔

 



Total Pages: 406

Go To