Book Name:Wasail e Bakhshish

تم نے حیوانوں   جیسے لوگوں   کو بھی انسان کیا

 

حق کی راہ میں   پتھر کھائے خوں   میں   نہائے طائف میں 

دین کا کتنی محنت سے کام آپ نے اے سلطان کیا

جان کے دشمن خون کے پیاسوں   کو بھی شَہرِمکہ میں   

عام معافی تم نے عطا کی کتنا بڑا احسان کیا

رونا مصیبت کا مت رو تُو پیارے نبی کے دیوانے

کرب و بلا والے شہزادوں   پر بھی تُو نے دھیان کیا

پیارے مبلغ معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے

دیکھ حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا

وہ دنیا کی رنگینی میں   کھویا رہا برباد ہوا

جس نے عشقِ نبی سے دل کو خالی اور ویران کیا

شاہ کو یہ معراج کی شب کتنا اونچا اِعزاز ملا

آپ نے تو چشمانِ سر سے دیدارِ رحمن کیا

آہ! مقدَّر عرصہ ہوا عطارؔ مدینے جا نہ سکا

ہائے! اِسے حالات نے جکڑا یوں   خونِ ارمان کیا

 

سر کار پھر مدینے میں   عطارؔ آگیا

( اَلحَمدُ لِلّٰہِ ۲رَمَضانُ الْمبارَک۱۴۱۴ھ کو مدینۂ منوَّرہزادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعظِیْماً کی مہکی مہکی فَضاؤں  میں   پہلے ہی دن یہ معروضہ پیش کرنے کا شَرَف حاصل ہوا)

سرکار پھر مدینے میں   عطّارؔ آگیا

پھر آپ کا گدا شہِ ابرار آگیا

تم بخشوا دو ہر خطا صَدقہ حُسین کا

اُمّیدِ مغفِرت پہ گنہگار آگیا

راضی ہمیشہ کیلئے ہو جایئے شہا!

 



Total Pages: 406

Go To