Book Name:Wasail e Bakhshish

دے دو اپنا غم سروَر! میں   مدینہ چھوڑ آیا

دل میں   ہے پریشانی، ہو کرم اے سلطانی

آؤ خواب میں   سرور! میں   مدینہ چھوڑ آیا

دل کی ہے عَجب حالت، صدمہ و غمِ فُرقت

الفِراق اے سروَر !میں   مدینہ چھوڑ آیا

چلدیا سفینہ ہے چُھٹ گیا مدینہ ہے

ہائے ! کیا کروں   سرور میں   مدینہ چھوڑ آیا

غم کی ہو گیا تصویر، آہ! ہجر ہے تقدیر

چُپ ہوا ہوں   رو رو کر! میں   مدینہ چھوڑ آیا

دور ہو گیا سرکار! آہ! غمزدہ عطارؔ

جلد آؤں   پھر در پر، میں   مدینہ چھوڑ آیا

 

جس کو چاہا میٹھے مدینے کا اس کو مہمان کیا

جس کو چاہا میٹھے مدینے کا اس کو مہمان کیا

جس پر نظرِکرم فرمائی اس پر یہ احسان کیا

طالبِ دنیا نے تو طلب لندن ہے کیا جاپان کیا

دیوانوں   نے حق سے طلب طیبہ کا ریگستان کیا

جن کا ستارا چمکا ان کو طیبہ کا پیغام ملا

بختوروں   نے در پر آکر بخشش کا سامان کیا

شکر ادا ہو کیونکر تیرا پیارے نبی کی اُمّت میں   

مجھ سے نکمے کو بھی پیدا تو نے اے رحمن کیا

شاہِ مدینہ دین کی دولت اپنی الفت بھی دی اور

اپنی غلامی مجھ کو عطا کی تُو نے بڑا احسان کیا

دورِجہالت تھا ہر سو جب کفر کی ظلمت چھائی تھی

 



Total Pages: 406

Go To