Book Name:Wasail e Bakhshish

واسِطہ لاڈلی فاطِمہ کا، واسِطہ غوث و احمدرضا کا

واسِطہ میرے مُرشد ضیا کا مجھ کو دیوانہ اپنا بنانا

گو گنہگار بھی ہوں   تو تیرا گر چِہ بدکار بھی ہوں   تو تیرا

میں   سِیہ کار بھی ہوں   تو تیرا بَہرِ خاکِ مدینہ نبھانا

رخصت اب ماہِ رَمضان کی ہے عید یامصطَفٰی آگئی ہے

غم مدینے کاعیدی میں  دیدو ازپئے غوث شاہِ زمانہ

 

عزم داڑھی کا جب سے کیاہے جب سے سر پرعمامہ سجا ہے

سب قبیلہ مخالِف ہوا ہے یانبی اس پہ تم رَحم کھانا

ہوگیا جُرم سنّت پہ چلنا اور اُلفت میں   تیری مچلنا

میٹھی سنّت سے لوگوں   کا ہٹنا آگیا ہائے کیسا زمانہ

تُوٹَھَہر جا ذرا روحِ مُضطَر آنیوالا ہے میٹھا مدینہ

جبکہ آئے نظر سبز گنبد تن سے ہو جانا اُس دم روانہ

جلد دفناؤ میِّت خدارا کُھل نہ جائے کہیں   بھید سارا

میرے چِہرے سے میرے عزیزو! تم کفن کو نہ ہرگز ہٹانا

ہجرمیں  جو تڑپتے ہیں   آقا یادِ طیبہ میں  روتے ہیں   آقا

دیکھ لیں   وہ بھی شاہِ مدینہ سبز گنبد کا منظر سُہانا

دشمنِ دیں   اکڑ کر کھڑا ہے حاسِدوں   کا حَسَد بڑھ چلاہے

ظُلم ہر سَمت سے ہو رہا ہے جلد عطارؔ کو تم بچانا

 

اب بُلالیجئے نا مدینہ ، آرہا ہے یہ حج کا مہینا

اب بُلالیجئے نا مدینہ ، آرہا ہے یہ حج کا مہینا

 ٹوٹ جائے نہ دل کا نگینہ، المدد تاجدارِ مدینہ

آنسوؤں   کی لڑی بن رہی ہو، اور آہوں   سے پھٹتا ہو سینہ

 



Total Pages: 406

Go To