Book Name:Wasail e Bakhshish

اُن کے سوا کسی کی دل میں   نہ آرزو ہو        دنیا کی ہر طلب سے بیگانہ بن کے جاؤں 

نوٹ لٹانے والوں   کو دعوتِ فکر

        سب کے سامنے اُٹھ اُٹھ کر نوٹ پیش کرنے والا اپنے ضمیر پر لازِمی غور کر لے، کہ اگر اُس سے کہا جائے: سب کے سامنے با ر بار دینے کے بجائے نعت خواں   کو چپکے سے اِکٹّھی رقم دے دیجئے کہ حدیث پاک میں   ہے:’’پوشیدہ عمل ، ظاہِری عمل سے ستَّرگُنا افضل ہے ۔‘‘(کَنْزُ الْعُمّال ج۱۶ ص۲۸۱ رقم ۴۶۲۶۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت) تو وہ چپ چاپ دینے کیلئے راضی ہوتا ہے یا نہیں  ؟ اگر نہیں   تو کیوں  ؟ کیا اس لئے کہ ’’ واہ واہ ‘‘ نہیں   ہوگی ! اگر واہ واہ کی خواہِش ہے تو ریا کاری ہے اور ریا کاری کی تباہ کاری کا عالَم یہ ہے کہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  جُبُّ الْحَزَنسے پناہ مانگو۔ عرض کیا گیا : وہ کیا ہے؟ فرمایا: جہنَّم میں   ایک وادی ہے کہ جہنَّم بھی ہر روز چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتا ہے اس میں   قاری داخل ہوں   گے جو اپنے اعمال میں   ریا کرتے ہیں  ۔(سُنَنِ اِبن ماجہ ج۱ص ۱۶۶حدیث ۲۵۶  دار المعرفۃ بیروت)بَہَر حال دینے میں   رِیا کاری پیدا ہوتی ہو تو رقم ضائع نہ کرے اور آخرت بھی داؤ پر نہ لگائے، نیز اگر نوٹ چلانے سے’’ محفل گرم‘‘  ہوتی ہو یعنی نعت خواں   کو جوش آتا ہو مَثَلاً نوٹ آنے کے سبب شعر کی بار بار تکرار، اُس کے ساتھ ِاضافۂ اشعار ، آواز بھی پہلے سے زور دار پائیں   توبارہ بار سوچ لیں   کہ کہیں   اِخلاص رخصت نہ ہو گیاہو، پیسوں   کے شوق میں   پڑھنے والے کو دینا ثواب کے بجائے اس کی حرص کی تسکین کا ذریعہ بن سکتا ہے اس لئے دینے والوں   کو بھی اس میں   اِحتِیاط کرنی چاہیے اور نعت خواں   کے اِخلاص کا خون کرنے کی کوشش نہیں   کرنی چاہیے۔ہاں   یہ یاد رہے کہ دیکھنے سننے والے کو کسی معین نعت خواں   پر بدگمانی کی اِجازت نہیں  ۔

نعت خوانی اوردنیوی کشش

        جہاں   خوب نوٹ نچھاور ہوتے ہوں  وہاں   نعت خواں   کا اہتِمام کے ساتھ جانا، اِختِتام تک رُکنا مگر غریبوں   کے یہاں   جانے سے کترانا ، حیلے بہانے بنانا، یا گئے بھی تو دُنیوی کشِش نہ ہونے کے سبب جلد لوٹ جانا سخت محرومی ہے اور ظاہر ہے کہ اِخلاص نہ رہا۔ اگر پیسے ، کھانا یا اچّھی شیرینی ملنے کی وجہ سے مالدار کے یہاں   جاتا ہے تو ثواب سے محروم ہے اور یہی کھانا اور شیرینی اس کا ثواب ہے ۔ یونہی غریبوں   سے کترانا اور مالداروں   کے سامنے بچھے بچھے جانا بھی دین کی تباہی کاسبب ہے منقول ہے: ’’ جو کسی غنی (یعنی مالدار) کی اس کے غَنا(یعنی مالداری) کے سبب تَواضُع کرے اس کادو تہائی دین جاتا رہا۔‘‘ (کشف الخفاء ج۲ ص ۲۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت) عَدَمِ شرکت (یعنی شریک نہ ہونے )کے لئے جھوٹے حیلے بہانے بنانا مثَلاً تھکن یا مرض وغیرہ نہ ہونے کے باوُجود ، میں   تھکا ہوا ہوں   ، طبیعت



Total Pages: 406

Go To