Book Name:Wasail e Bakhshish

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ضَروری وَضاحت

       اَلحمدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ’’ وسائلِ بخشش ‘‘ کا ایک ایک مِصرعہ فنّی تفتیش سے گزارنے کی ترکیب بنی اور یہ کام ماہِ میلاد ربیع الاوّل شریف ۱۴۳۵ ھ (جنوری2014ء) میں   مکمَّل ہوا ، بعض اشعار یا مصرعے مُتبادِل لکھے یا لکھوائے اور کچھ حَذف بھی کرنے پڑے۔ نظرِ ثانی شدہ نسخے کی پہلی بار اشاعت جمادَی الاخریٰ ۱۴۳۵ھ میں   کی جارہی ہے۔ اگر چِہ تفتیش میں   نہایت دقّتِ نظر سے کام لیا گیا ہے تاہم یہ کلام خطاکار بندے کاہے اور اِس میں   اَغلاط کا امکان ہَنُو ز موجود۔ اگر عاشقانِ رسول کسی شِعر میں   کوئی شَرْعی یا فنّی غَلَطی پائیں   تو اچّھی اچّھی نیّتوں   کے ساتھ مَع نام، پتا اور فون نمبر مُدَلَّل طورپر مجھے مُطّلع فرما کر ثوابِ آخِرت کے حقدار بنیں  ۔

    عاشقانِ رسول کی خدمت میں   مَدَنی التجا ہے کہ وہ’’وسائلِ بخشش‘‘ (مُرَمَّم) ہی کو مِعیار بنائیں   اور میرے قبل ازیں مطبوعہ کلام میں   سے صِرْف وُہی شِعر پڑھیں   جو اِس نسخے کے مطابِق ہو۔

 ایک چُپ سو۱۰۰ سُکھ

غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و

بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب

۱۸ ربیع الآخر ۱۴۳۵ھ

2014-02-19

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کلام تلاش کرنے کا طریقہ

        ’’وسائلِ بخشش‘‘ کو حمد ومناجات، نعت و استغاثات، مناقب، سلام اور متفر ّ ق کلام کے عنوانات کے تحت حروفِ تہجّی (ا۔ب۔پ وغیرہ ) کے مطابق مُرَتّب کیا گیا ہے لہٰذا اس میں   کسی بھی کلام کو اُس کے پہلے شعر(مطلع)کے پہلے مصرعے کے آخری حرف کودیکھتے ہوئے تلاش کیا جاسکتا ہے ۔

 

 

 

خود پسندی کی تعریف:

اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ  عَزَّوَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے ۔ (یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے۔)

(احیاء العلوم،  ج ۳، ص، ۴۵۴

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تِلاوت کی نیّتیں   : قاری صاحب اِس طرح نیت کریں   اور کروائیں   : اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمیْنَ ط وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ط فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ۔ یعنی ’’مسلمان کی نیت اُس کے عمل سے بہترہے۔‘‘میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اچھی نیت نہ ہو تو عمل کا ثواب نہیں   ملتا اِس لئے میں   نیت



Total Pages: 406

Go To