Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی’’کرامت‘‘ کی تعریف کچھ اس طرح بَیان فرماتے ہیں : ’’ولی سے جو بات خلافِ عادت صادِر ہو اُس کو’’ کرامت‘‘ کہتے ہیں۔‘‘ (بہارِشریعت)

اَفضَلُ الَاولِیاء

عُلَمَاء واَکابِرینِاسلام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اِس پر اِتِّفاق ہے کہ تمام صَحابۂ کِرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ’’اَفْضَلُ الاَوْلِیَاء‘‘ ہیں ،قیامت تک کے تمام اَولیاءُ اللہ رَحِمَھُمُ اللہ اگرچِہ دَرَجۂ وِلایَت کی بلند ترین منزِل پر فائز ہو جائیں مگر ہرگز ہرگز وہ کسی صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کمالاتِ وِلایَت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ نے مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ رسالت،نوشۂ بزمِ جنَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے غلاموں کووِلایت کا وہ بُلند وبالا مَقام عنایت فرمایا اوراِن مُقدَّس ہستیوں رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو ایسی ایسی عظیم ُ الشان کرامتوں یعنی بُزُرگیوں سے سرفَرازکیا کہ دوسرے تمام اَولیاءِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے لئے اِس معراجِ کَمال کا تَصَوُّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اِس میں شک نہیں کہ حَضَراتِ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے اِس قدَر زیادہ کرامتوں کا تذکرہ نہیں ملتا جس قدَر کہ دوسرے اَولیاءِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے کرامتیں منقول ہیں۔ یہ واضِح رہے کہ کثرتِ کرامت، اَفضَلِیّتِ وِلایَت کی دلیل نہیں کیونکہ وِلایَت دَرحقیقت قُربِ بارگاہِ اَحَدِیَّت عَزَّوَجَلَّ کا نام ہے اور یہ قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ جس کو جس قدَر زیادہ

 



Total Pages: 48

Go To