Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنْہ سر کے نیچے دُرّہ رکھے ہوئے زمین پر سورہے تھے ، اُس نے نیام سے تلوار نکالی اور وار   کرنا ہی چاہتاتھا کہ غیب سے دو شیرنُمُودار ہوئے اور اُس کی طرف بڑھے ، یہ منظر دیکھ کر وہ چیخ پڑا، اُس کی آواز سے حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیدار ہو گئے ،اُس نے اپنا سارا واقِعہ بیان کیا اورآپ کے دستِ حق پرست پرمسلمان ہوگیا ۔ (تفسیرِ کبیرج۷ص۴۳۳)

گھر والوں  کو تہجد کیلئے جگاتے

       حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں  کہ ان کے والدماجدحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کو اُٹھ کر نَمازیں  ادا فرماتے ، اس کے بعد جب رات کا آخِری وَقت آجاتاتو اپنے گھروالوں  کو بیدار کرکے فرماتے کہ نماز پڑھو ۔ پھر یہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت کرتے  :

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(۱۳۲)

ترجَمۂ کنز الایمان : اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں  مانگتے ہم تجھے روزی دیں  گے اور انجام کا بَھلا پرہیزگاری کے لئے  ۔ (مؤطا امام مالک ج۱ص۱۲۳حدیث ۲۶۵)

 امیرُالْمُؤمِنِین،امامُ العادِلین، حضرتِ سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اَعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے نَمازیوں  کی خبر گیری کرنے کی ایک روایت اور مُلاحَظہ فرمایئے نیز اِ س کے مطابِق عمل کا ذِہن بنایئے چُنانچِہ امیرُالْمُؤمِنِینفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صُبْح کی نَماز میں  حضرتِ سیِّدُنا سُلیمان بن ابیحَثْمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نہیں  دیکھا ۔ بازار تشریف لے گئے ، راستے میں  سیِّدُنا سُلیَمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گھر تھا اُن کی ماں  حضرتِ سیِّدَتُناشِفا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایاکہ صُبح کی نَماز میں  ، میں  نے سُلَیمان کو نہیں  پایا! انہُوں  نے کہا :  رات میں  نَماز(یعنی نَفلیں  ) پڑھتے رہے پھر نیند آگئی،سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : صُبح کی نَماز جماعَت سے پڑھوں  یہ میرے نزدیک اِس سے بہتر ہے کہ رات میں قِیام کروں  ۔ (یعنی رات بھر نفلیں  پڑھوں  ) ۔  (موطّا امام مالک ج۱ص۱۳۴حدیث۳۰۰)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے !سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گھر جا کر خبر نکالی، اِس رِوایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شب بھر نوافِل پڑھنے یا اجتِماعِ ذِکر و نعت یا سنّتوں  بھرے اجتماع میں  رات گئے تک شرکت کرنے کے سبب صُبح کی نَماز قضا ہو جانا کُجا اگرفَجرْ کی جماعَت بھی چلی جاتی ہو تو لازِم ہے کہ اِس طرح کے مُستَحبّات چھوڑ کر رات آرام کرلے اور باجماعَت نَمازِفَجر ادا کرے  ۔

محبوبِ فاروقِ اعظم

      فرمانِ فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :  مجھے وہ شخص محبوب(یعنی پیارا) ہے جو مجھے میرے عیب بتائے  ۔ (الطبقات الکبری لابن سعد ج۳ص۲۲۲)

شَہْد کا پیالہ

      حضرت ِسیِّدُنا عُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں  شَہْد کا پیالہ پیش کیا گیا ، اُسے اپنے ہاتھ پر رکھ کر تین مرتبہ فرمایا  : ’’ اگر میں  اُسے پی لوں  تو اس کی حلاوت (یعنی لذّت و مٹھاس) ختم ہو جائے گی مگر حساب باقی رہ جائے گا ۔ ‘‘پھر آپ نے کسی اور کو دے دیا  ۔ (الزھد لابن المبارک ص۲۱۹)

فانی دنیا کانقصان برداشْتْ کر لیا کرو

    امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت ِسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   :  میں  نے اس بات پر غور کیاہے کہ جب دُنیا کا ارادہ کرتا



Total Pages: 21

Go To