Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) (پ۲۷،الرحمٰن : ۴۶)

ترجَمۂ کنزالایمان :  اور جواپنے رب کے حُضُور کھڑے ہونے سے ڈرے اُس کے لئے دو جنّتیں  ہیں  ۔

اے نوجوان!بتا! تیرا قَبْر میں  کیا حال ہے ؟ اُس صالِح(یعنی باعمل) نوجوان نے قَبْرکے اندر سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام لے کر پکارا اوربآوازِ بلند دو مرتبہ جواب دیا :  قَدْ اَعْطَانِیْہِمَا رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْجَنَّۃِ ۔  میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے یہ دونوں  جنّتیں  مجھے عطا فرما دی ہیں  ۔  (تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۴۵ص۴۵۰) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو ۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

دے بہرِعُمَر اپنا ڈر یاالٰہی

دے عشقِ شہِ بَحْروبَر یاالٰہی

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد             

        سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!کیا شان ہے فاروقِ اَعظم حضرتِ سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کہ بعطائے ربِّ اکبرعَزَّوَجَلَّ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے  اہلِ قَبْر کے اَحوال معلوم کرلئے  ۔  اِس رِوایَت سے یہ بھی پتاچلا کہ جوشخص نیکیوں  بھری زندَگی گزارے گا اور خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے لرزاں  وترساں  رہے گا ،بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں  کھڑا ہو نے سے ڈرے گا،وہ اللہُ رَبُّ الْعُلٰی عَزَّوَجَلَّ کی رحمتِ کامِلہ سے دو جنّتوں  کا حقدار قرار پائے گا ۔  جَوانی میں  عِبادت کرنے اور خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ رکھنے والوں  کو مبارَک ہو کہ بروزِ قِیامت جب سورج ایک میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہو گا، سایۂ عرش کے عِلاوہ اُس جاں  گُزا (یعنی جان کو تکلیف میں  ڈالنے والی ) گرمی سے بچنے کا کوئی ذَرِیْعہ نہ ہوگا تواللہُ رَحْمٰن عَزَّوَجَلَّ ایسے خوش قسمت مسلمان کو اپنے عرشِ پناہ گاہِ اہلِ فَرْش کا سایۂ رَحْمت عنایت فرمائے گاجیسا کہ

سایۂ عرش پانے والے خوش نصیب

      دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ88 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’سایۂ عرش کس کس کو ملے گا؟‘‘ صَفْحَہ20 پر حضرتِ سیِّدُنا اِمام جلالُ الدِّین سُیُوطی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی نقْل فرماتے ہیں   :  حضرتِ سیِّدُنا سَلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا ابوالدَّرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف خط لکھا کہ اِن صِفات کے حامِل مسلمان عرش کے سائے میں  ہوں  گے :  (اُن میں  سے دو یہ ہیں  )(۱)…وہ شخص جس کی نَشْوونُمااِس حال میں  ہوئی کہ اُس کی صحبت، جَوانی اورقُوّت اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّکی پسند اور رِضاوالے کاموں  میں  صَرْف ہوئی اور(۲)…وہ شخص جس نے اللہُ عَزَّوَجَلَّ کاذِکْر کیا اوراُس کے خوف سے اُس کی آنکھوں  سے آنسو بہ نکلے  ۔ (مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۸ ص۱۷۹ حدیث۱۲)

یارب! میں  ترے خوف سے روتا رہوں  ہر دَم

                                        دیوانہ شَہَنْشاہِ مدینہ کا بنا دے                  (وسائلِ بخشش ص ۱۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اچانک دو شیر آ پہنچے

      حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک شخص ڈھونڈ رہا تھا، کسی نے بتایا کہ کہیں  آبادی کے باہَر سورہے ہوں  گے  ۔  وہ شخص آبادی کے باہر نکل کر آپ کو تلاش کرنے لگا یہاں  تک کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس حالت میں  پایا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی



Total Pages: 21

Go To