Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تمام صَحابۂ کِرام عَلَيْهِمُ الّرِّضْوَان سے اَفضل ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ صَاحِبُ الْکرامات اورجامِعُ الْفَضائِل وَالْکَمالات ہیں۔ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کودیگرخُصُوصِیّات کے ساتھ ساتھ بہت سی کرامات کا تاجِ فضیلت دے کر دوسروں سے ممتازفرمادیا۔

کرامَت حقّ ہے

زمانۂ نُبُوَّت سے آج تک کبھی بھی اِس مسئلے(مَس۔ئَ۔لے) میں اَہلِ حق کے درمیان اِختِلاف نہیں ہوا سبھی کا مُتَّفِقہ عقیدہ ہے کہ صَحابۂ کِرام عَلَيْهِمُ الّرِّضْوَان اوراَولیاءِ عُظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامتیں حق ہیں اورہرزمانے میں اللہ والوں کی کرامات کا صُدور و ظُہورہوتارہا اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامت تک کبھی بھی اِس کا سِلسِلہ مُنْقَطِع (مُن۔قَ۔طِع یعنی ختم)نہیں ہوگا،بلکہ ہمیشہ اَولیاءُ اللہ رَحِمَھُمُ اللہسے کَرامات صادِر وظاہِر ہوتی رہیں گی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کَرامَت کی تعریف

اب اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مَنْبعِ علْم وہُنَر حضرتِ سیِّدُنا عمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مزید چند کرامات بَیان کی جائیں گی مگر پہلے ’’کرامت‘‘ کی تعریف سُن لیجئے۔چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ1250 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلداول صَفْحَہ58پر صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ، حضرتِ علّامہ

 



Total Pages: 48

Go To