Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کُفّارِ نا ہبخار سے بر سرِپَیکار رہے اور سرورِ کائنات، شَہنْشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تمام اسلامی تحریکات اورصُلْح وجنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں وزیر ومُشیر کی حیثیَّت سے وفادار ورفیقِ کار رہے۔مُحسِنِ اُمَّت، خلیفۂ اوّل ، امیرُالْمُؤمِنِین ،حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بعدحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ مُنتخَب فرمایا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تختِ خِلافت پر رَونق اَفروز رہ کر جانَشینی ٔ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تمام تر ذِمّے داریوں کو بَطریقِ اَحْسن سر اَنجام دیا۔

نَمازِ فَجْر میں ایک بدبخت ابولؤلؤ فیروز نامی (مجوسییعنی آگ پوجنے والے)کافِر نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر خنجر سے وار کیااور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ زَخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تیسرے دن شرفِ شہادَت سے مُشرَّف ہوگئے ۔بوقتِ شہادت عُمْر شریف63 برس تھی۔ حضرتِ سیِّدُنا صُُہَیْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نَمازِ جنازہ پڑھائی اور گوہرِ نایاب ، فیضانِ نُبُوَّت سے فَیضیاب خلیفۂ رسالت مآب حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روضۂ مُبارَکہ کے اندریکم مُحَرَّمُ الْحرام 24 ہجری اتوار کے دن حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلوئے اَنور میں مَدفون ہوئے جو کہ سرکارِ انام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پہلوئے پاک میں آرام فرما ہیں۔ (الرّیا ض النضرۃ فی مناقِب العَشرۃ ج ۱ص ۲۸۵، ۴۰۸، ۴۱۸، تارِیخُ الْخُلَفاء ص۱۰۸وغیرہ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

 



Total Pages: 48

Go To