Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نظر آیا، کیا دیکھتا ہوں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں اور ساتھ ہی شیخینِ کریمین یعنی حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق اور حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا

بھی حاضِرِ خدمت ہیں۔ اتنے میں حاجی مُشتاق عطّاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بارگا ہِ محبوبِ باری صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضِر ہوئے سرکارِعالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حاجی مُشتاق عطّاری کو سینے سے لگالیا اور پھر کچھ ارشاد فرمایا مگر وہ مجھے یاد نہیں پھر آنکھ کُھل گئی۔

آپ کے قدموں سے لگ کر موت کی یا مصطفٰے

آرزو کب آئے گی بَر بیکس و مجبور کی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عُمر کی موت پر اسلام روئے گا

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : مجھے جبرائیل(عَلَیْہِ السَّلَام)نے کہا ہے کہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا۔ (حلیۃ الاولیاء ج۲ ص۱۷۵)

مَرَضُ الوِصال میں بھی نیکی کی دعوت

امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو ایک نوجوان تسلّی دینے کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ا ے


 

 



Total Pages: 48

Go To