Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا حرام ہے

’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ277 پرامامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے بدمذہبوں کے پاس بیٹھنے کا حُکم پوچھا گیا تو اِرشاد فرمایا: ’’( بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا)حرام ہے اور بد مذہب ہوجانے کا اندیشہ کامل اور دوستا نہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل۔ ‘‘رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں :اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَایُضِلُّوْنَکُمْ وَلَایَفْتِنُوْنَکُمْ یعنیاُنھیں اپنے سے دُور کر و اور اُن سے دُور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں۔(مقدّمہ صَحیح مُسلِم حدیث۷ ص ۹ )اور اپنے نفس پر اعتِماد کرنے والا (آدمی)بڑے کذّاب (یعنی بَہُت ہی بڑے جھوٹے )پر اعتِماد کرتا ہے ، اِنَّھَا اَکْذَبُ شَیْئٍ اِذَا حَلَفَتْ فَکَیْفَ اِذَا وَعَدَت(نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے) صحیح حدیث میں فرمایا : جب دَجّال نکلے گا ، کچھ (افراد)اُسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مُستقیم(یعنی قائم) ہیں ،ہمیں اِس سے کیا نقصان ہوگا؟ وہاں (یعنی دجّال کے پاس )جاکر وَیسے ہی ہوجائیں گے ۔ (ابوداوٗدج۴ ص۱۵۷حدیث ۴۳۱۹ ) حدیث میں ہے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اُس کا حَشر اسی کے ساتھ ہو گا ۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ص۱۹حدیث ۶۴۵۰)

آقا نے اپنے مشتاق کو سینے سے لگا لیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّوعشقِ مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

 



Total Pages: 48

Go To