Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مُردہ چیخنے لگا،ساتھی بھاگ کھڑے ہوئے

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 413 صفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ عُیُونُ الحِکایات‘‘حصّہ اوّلصَفْحَہ246پر حضرتِ سیِّدُنا امام عبد الرَّحمن بن علی جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی تحریر فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بِن تَمِیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْعَظِیْم فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوالْحُصَیب بشیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْقَدِیْر کا بَیان ہے کہ میں تجارت کیا کرتا تھا اور اللہُ غفّار عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرَم سے کافی مال دار تھا۔ مجھے ہر طر ح کی آسائِشیں مُیَسَّر تھیں اور میں اکثر ’’ایران‘‘ کے شہروں میں رہا کرتا تھا۔ایک مرتبہ مجھے میرے مزدور نے بتایا کہ فُلاں مسافر خانے میں ایک لاش بے گورو کفن پڑی ہے،کوئی دفنانے والا نہیں۔یہ سن کر مجھے اُس مرنے والے کی بے کسی پر ترس آیا اور خیرخواہی کی نیّت سے تَجْہِیْز وتَکْفِیْن کا اِنتِظام کرنے کیلئے میں مسافِر خانے پہنچا تو دیکھا کہ ایک لاش پڑی ہے جس کے پیٹ پر کچّی اینٹیں رکھی ہیں۔ میں نے ایک چادر اُس پر ڈال دی، اُس لاش کے قریب اُس کے ساتھی بھی بیٹھے تھے ۔ اُنہوں نے مجھے بتایاکہ یہ شخص بَہُت عِبادت گُزار اور نِکوکار تھا،ہمارے پاس اتنی رقم نہیں کہ ہم اِس کیتَجْہِیْز وتَکْفِیْن کا اِنتِظام کرسکیں۔یہ سن کر میں نے اُجرت پر ایک شخص کو کفَن لینے اوردوسرے کو قَبْرکھودنے کے لئے بھیجا اور ہم لوگ ملکر اُس کیقَبْرکے لئے کچّی اِینٹیں تیّار کرنے اور اُسے غُسل دینے کے لئے پانی گَرْم کرنے لگے۔ ابھی ہم اِنہیں کاموں میں مشغول تھے کہ یکایک وہ

 



Total Pages: 48

Go To