Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

غلامانِ مصطَفٰے کی آنکھوں کے تارے حضرتِ سیِّدُنا ابوحَفْص عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان اور اُن سے مَحَبَّت کرنے کا اِنعام آپ نے مُلاحَظہ فرمایاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمَحَبَّت کرناگویا رسولِ پاک، صاحِبِ لولاک، سیَّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سےمَحَبَّت کرنا ہے اور مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بُغض وعداوت تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بُغض وعداوت کے مُترادِف (مُ۔تَ۔را۔دِف ) ہے،جس کا نتیجہ دنیا وآخِرت کی ذلَّت وذُلالت ہے۔

وہ عُمَر وہ حبیبِ شہِ بحر و بر وہ عمر خاصۂ ہاشِمی تاجور

وہ عمرکُھل گئے جس پہ رَحمت کے در وہ عمر جس کے اَعداء پہ شیدا سَقَر

اُس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

جس سے مَحَبَّت ، اُسی کے ساتھ حشر

’’بخاری شریف‘‘ کی حدیثِ پاک میں ہے:خادِمِ بارگاہِ رِسالت حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ کسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسولِ رحمت، شفیعِ روزِ قیامت، مُخبِرِاَحوالِ دُنیا وآخِرت سے پوچھا کہ قِیامت کب آئے گی؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم نے اِس کے لئے کیا تیّاری کی ہے؟ عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے پاس تو کوئی عمل نہیں ، سوائے اِس کے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّت کرتا ہوں۔ سرورِ کائنات، شاہِ


 

 



Total Pages: 48

Go To