Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

دوسرے شعر کے معنی ہیں : عشقِ رسول کی آگ میں جل کرخاک ہونے والوں کو(مرنے کے بعد) چین کی نیند نصیب ہوتی ہے کیونکہ روح وجان کے لئے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّتاِکسیریعنی نہایت مُؤَثِّر اور مُفید دوا کا درَجہ رکھتی ہے۔

دُرَّہ پڑتے ہی زلزلہ جاتا رہا

ایک مرتبہ مدینۂ مُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں زَلزَلہ آگیا اور زمین زور زورسے ہلنے لگی۔ یہ دیکھ کر کرامت وعدالت کی اعلیٰ مثال،صاحبِ عَظَمت وجلال، امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جلا ل میں آگئے اورزمین پر ایک دُرّہ مار کرفرمانے لگے : قِرِّیْ اَلَمْ اَعْدِلْ عَلَیْکِ (یعنی اے زمین !ٹھہر جا کیا میں نے تیرے اوپر عَدْل وانصاف نہیں کیا؟) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمانِ جلالت نشان سنتے ہی زمین ساکن ہوگئی (یعنی ٹَھہر گئی)اورزلزلہ خَتْم ہوگیا ۔

(طبقاتُ الشّافعیۃ الکبری للسبکی ج۲ص۳۲۴)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندوں کو کتنی طاقت اور قوّت حاصل ہوتی ہے اور وہ کس قدَربُلند وبالا شان کے حامِل ہوتے ہیں۔سچ ہے کہ جو خدا عَزَّوَجَلَّ کے ہوجاتے ہیں خدائی (یعنی دُنیا)اُن کی ہوجاتی ہے۔

’’عُمَرفاروق‘‘ کے 8حُرُوف کی نسبت سے

8فضائلِ حضرتِ عُمَربَزَبانِ محبوبِ ربِّ اکبر

{1}مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلٰی رَجُلٍ خَیْرٍ مِّنْ عُمَرَیعنی حضرت عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی

 



Total Pages: 48

Go To