Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اس بات پر غور کیاہے کہ جب دُنیا کا ارادہ کرتا ہوں تو آخِرت کا نقصان ہوتا نظر آتا ہے اورجب آخِرت کا ارادہ کرتا ہوں تودنیا کو نقصان محسوس ہوتاہے چُونکہ مُعامَلہ ہی اسی طرح کا ہے لہٰذا تم(آخِرت کانہیں بلکہ) فانی دنیا کا نقصان برداشت کرلیاکرو۔(اَلزّھد للامام احمد ص۱۵۲)

فاروقِ اعظم کا رونا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محبوبِ جَنابِ صادِق واَمین،سیِّدُ الخائفین، امیرُ الْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قَطْعی جنّتی ہونے کے باوُجود خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِریہ کُناں رہتے بلکہخَشیَّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے رونے کے سبب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرۂ پُر اَنوار پر دو سیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ695 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’اللہ والوں کی باتیں ‘‘ جلد اوّل ، صَفْحَہ123 پر حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پاکیزہ زندَگی کے ایک حسین اور لائقِ تقلید گوشے کا ذکر ہے: حضرتِ عبداللہ بن عیسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے رِوایت ہے کہ صاحِبِ خوف وخشیَّت،نجمِ راہِ ہدایَت، منبعِ علم وحکمت حضرتِ سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرۂ اَقدس پر بَہُت زیادہ رونے کی وجہ سے دوکالی لکیریں پڑگئی تھیں۔ (اَلزّھد للا مام احمد بن حنبل ص۱۴۹)

رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں

ذِکرِ مَحَبَّت عام ہے لیکن سوزِ مَحَبَّتعام نہیں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


 

 



Total Pages: 48

Go To