Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  یہ تو امیرُالْمُؤمِنِین،خلیفۃ المسلمین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز ہے اور پھر فوراً ہی اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پُشت (یعنی پیٹھ) کر کے صَف بندی کا حُکْم دے دیا، اِس کے بعد ہم نے کُفّارِ بداطوار پر زور دار یلغار کر دی تو ایک دم جنگ کا پانسہ پلَٹ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں  اسلامی لشکرنے کُفّارِبِکار کی فوجوں  کو روند ڈالا اور عَساکِرِ اسلامِیہ (یعنی اسلامی فوجوں  ) کے قاہِرانہ حملوں  کی تاب نہ لا کر لشکرِ اَشرار میدانِ کارزار سے راہِ فِرار اختیار کرگیااور  افواجِ اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا ۔  [1]؎  

مُراد آئی مُرادیں  ملنے کی پیاری گھڑی آئی

ملا حاجت روا ہم کو درِ سلطانِ عالَم سا            (ذَوقِ نعت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیرُالْمُؤمِنِین،فاتِحِ اَعظم حضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اَعظَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اِس عالیشان کَرامَت سے علم وحِکمت کے کئی مَدَنی پھول چُننے کو ملتے ہیں  :

{1} امیرُالْمُؤمِنِین ، محبُّ المسلمین، ناصِرِ دینِ مُبین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اَعظَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مدینۂ طَیِّبَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے سینکڑوں  مِیل کی دُوری پر ’’نَہاوَنْد‘‘ کے میدانِ جنگ اور اُس کے اَحْوال وکَیْفِیّات کو دیکھ لیااور پھر عَساکرِ اِسلامِیہ کی مشکلات کا حل بھی فوراًلشکر کے سِپہ سالار کو بتا دیا ۔  اِس سے معلوم ہوا کہ اہلُ اللہ کی قوّتِ سَماعت وبَصارت(یعنی سننے اور دیکھنے کی طاقت) کو عام لوگوں  کی قُوّتِ سَماعت وبَصارت پر ہرگز ہرگز قِیاس نہیں  کرنا چاہئے بلکہ یہ اعتِقاد رکھنا چاہئے کہاللہرَبُّ الْعِزَّت عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب بندوں  کے کانوں  اور آنکھوں  میں  عام انسانوں  سے بہت ہی زیادہ طاقت رکھی ہے اور ان کی آنکھوں  ، کانوں  اور دوسرے اَعضاء کی طاقت اِس قدَر بے مِثْل وبے مثال ہے اور اُن سے ایسے ایسے کارہائے نُمایاں  اَنجام پاتے ہیں  کہ جن کو دیکھ کر کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں  کہا جا سکتا{2}وزیرِ شَہَنْشاہِ نُبُوَّت،رُکنِ قَصرِمِلَّت حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اَعظَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی آواز سینکڑوں  مِیل دُور نہاوند کے مقام پر پہنچی اور وہاں  سب اہلِ لشکر نے اس کو سُنا {3} جانشینِ رسولِ مقبول،گلشنِ صَحابِیَّت کے مہکتے پھول، امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خَطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بَرَکت سے اللہرَبُّ الْعِزَّت عَزَّ وَجَلَّ نے اس جنگ میں  مسلمانوں  کو فَتْح ونصرت عنایت فرمائی ۔

(کراماتِ صَحابہ ص۷۴ تا۷۶،مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۱۰ ص۲۹۶ تحتَ الحدیث ۵۹۵۴مُلَخّصاً  ) اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم

کس نے ذرّوں  کو اُٹھایا اور صَحْرا کر دیا         کس نے قطروں  کو ملایا اور دریا کر دیا

کس کی حکمت نے یتیموں  کو کیا دُرِّ یتیم          اور غلاموں  کو زمانے بھر کا مولا کر دیا

شوکتِ مَغرور کا کس شخص نے توڑا طِلِسْم[2]         مُنہَدِم[3]  کس نے الٰہی! قصرِ کِسریٰ [4] کر دیا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم کا تَعارُف

      خلیفۂ دُوُم، جانَشینِ پیغمبر، وزیرِ نبیِّ اَطہر، حضرتِ سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کُنْیَت’’ابوحَفْص‘‘ اور لقَب   ’’فاروقِ اَعظم‘‘ہے  ۔  ایک



3   دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ  لِلْبَیْہَقِی ج۶ ص ۷۰ ۳،  تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۴۴ص۳۳۶، تارِیخُ الْخُلَفاء ص۹۹، مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ج۴ ص۴۰۱ حدیث۵۹۵۴،حجۃ اللّٰہ علی العالمین ص ۲ ۶۱

4   جادو       

5   گِرانا 

6   بادشاہِ ایران کا محل۔  



Total Pages: 21

Go To