Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کی پسند اور رِضاوالے کاموں میں صَرْف ہوئی اور(۲)…وہ شخص جس نے اللہُ عَزَّوَجَلَّ کاذِکْر کیا اوراُس کے خوف سے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۸ ص۱۷۹ حدیث۱۲)

یارب! میں ترے خوف سے روتا رہوں ہر دَم

دیوانہ شَہَنْشاہِ مدینہ کا بنا دے (وسائلِ بخشش ص ۱۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اچانک دو شیر آ پہنچے

حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک شخص ڈھونڈ رہا تھا، کسی نے بتایا کہ کہیں آبادی کے باہَر سورہے ہوں گے۔ وہ شخص آبادی کے باہر نکل کر آپ کو تلاش کرنے لگا یہاں تک کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس حالت میں پایا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سر کے نیچے دُرّہ رکھے ہوئے زمین پر سورہے تھے، اُس نے نیام سے تلوار نکالی اور وار کرنا ہی چاہتاتھا کہ غیب سے دو شیرنُمُودار ہوئے اور اُس کی طرف بڑھے، یہ منظر دیکھ کر وہ چیخ پڑا، اُس کی آواز سے حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیدار ہو گئے ،اُس نے اپنا سارا واقِعہ بیان کیا اورآپ کے دستِ حق پرست پرمسلمان ہوگیا۔(تفسیرِ کبیرج۷ص۴۳۳)

گھر والوں کو تہجد کیلئے جگاتے

حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ ان کے والدماجد


 

 



Total Pages: 48

Go To