Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

‘‘رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں   : اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَایُضِلُّوْنَکُمْ وَلَایَفْتِنُوْنَکُمْ یعنیاُنھیں  اپنے سے دُور کر و اور اُن سے دُور بھاگو وہ تمہیں  گمراہ نہ کردیں  کہیں  وہ تمہیں  فتنے میں  نہ ڈالیں  ۔ (مقدّمہ صَحیح مُسلِم حدیث۷ ص ۹ )اور اپنے نفس پر اعتِماد کرنے والا (آدمی)بڑے کذّاب (یعنی بَہُت ہی بڑے جھوٹے )پر اعتِماد کرتا ہے ، اِنَّھَا اَکْذَبُ شَیْئٍ اِذَا حَلَفَتْ فَکَیْفَ اِذَا وَعَدَت(نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے ) صحیح حدیث میں  فرمایا  :   جب دَجّال نکلے گا ، کچھ (افراد)اُسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں  گے کہ ہم تو اپنے دین پر مُستقیم(یعنی قائم) ہیں  ،ہمیں  اِس سے کیا نقصان ہوگا؟ وہاں  (یعنی دجّال کے پاس )جاکر وَیسے ہی ہوجائیں  گے  ۔  (ابوداوٗدج۴ ص۱۵۷حدیث ۴۳۱۹ ) حدیث میں  ہے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اُس کا حَشر اسی کے ساتھ ہو گا  ۔          (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ص۱۹حدیث ۶۴۵۰)

آقا نے اپنے مشتاق کو سینے سے لگا لیا

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّوعشقِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپانے ،دل میں  صَحابۂ کِرام واولیاء عُظام  رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مَحَبَّت جگانے ،نیک صُحبتوں  سے فیض اُٹھانے ، نَمازوں  اور سنّتوں  کی عادت بنانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ، عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافِلوں  میں  سنّتوں  کی تربیَّت کیلئے سفَر اختیار کیجئے اورکامیاب زندَگی گزارنے اور اپنی آخِرت سنوارنے کیلئے  روزانہ’’ فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیعے مَدَنی اِنْعامات کا رِسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کے ابتِدائی 10 دن کے اندر اندر اپنے یہاں  کے ذمّے دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے  ۔  ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع میں  شرکت کیجئے اور دعوتِ اسلامی کے ہر دلعزیز مَدَنی چینل کے سلسلے دیکھئے  ۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنے دل میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقَرَّبِین و صالِحین کیمَحَبَّت کو دن بدن بڑھتا ہوا محسوس فرمائیں  گے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضْل و کَرَم سے اِن نُفُوسِ قُدسِیَّہ کا فیضان اور اِن کی نظرِشفقت شاملِ حال ہو گی ۔  ترغیب کیلئے ایک مَدَنی بہارپیش کی جاتی ہے چُنانچِہثناخوانِ رسولِ مقبول، بُلبلِ روضۂ رسول،مدّاحِ صحابہ وآلِ بُتُول، گلزارِ عطّارؔ کے مُشکبار پھول، مبلِّغ دعوتِ اسلامی الحاج ابو عُبید قاری حاجی مشتاق احمد عطّاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کی وفات سے چند ماہ قَبل مجھے ( سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہ کو )  کسی اسلامی بھائی نے ایک مکتوب اِرسال کیا تھا، اُس میں  انہوں  نے بَقسم اپنا واقِعہ کچھ یوں  تحریر کیا تھا :  میں  نے خواب میں  اپنے آ پ کوسُنہری جالیوں  کے رُوبرو پایا، جالی مبارَک میں  بنے ہوئے تین سوراخ میں  سے ایک سوراخ میں  جب جھانکا تو ایک دلرُبا منظرنظر آیا، کیا دیکھتا ہوں  کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں  اور ساتھ ہی شیخینِ کریمین یعنی حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق اور حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی حاضِرِ خدمت ہیں  ۔  اتنے میں  حاجی مُشتاق عطّاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بارگا ہِ محبوبِ باری صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضِر ہوئے سرکارِعالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حاجی مُشتاق عطّاری کو سینے سے لگالیا اور پھر کچھ ارشاد فرمایا مگر وہ مجھے یاد نہیں  پھر آنکھ کُھل گئی ۔

آپ کے قدموں  سے لگ کر موت کی یا مصطفٰے

آرزو کب آئے گی بَر بیکس و مجبور کی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عُمر کی موت پر اسلام روئے گا

        اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا  :  مجھے جبرائیل(عَلَیْہِ



Total Pages: 21

Go To