Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مذکورہ بیماریوں کا علاج

پہلی بیماری کا علاج یہ ہے کہ ہر بد مذہب کی صُحبت سے بچو، اُس عالمِ حقّ اورسُنِّیُّ الْمذہَب شخص کے پاس بیٹھو جس کی صحبتِ فیض اَثر سے سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاعِشق اور اِتِّباعِ شریعت کا جذبہ پیدا ہو۔

دو سری بیماری کا علاج یہ ہے کہ اکثر فِتنہ وفساد کی جَڑ دو چیز یں ہیں : ایک غصّہ اور اپنی بڑائی اور دوسرے حُقُوقِ شرعیہ سے غفلت۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں سب سے اونچا رَہوں اور سب میرے حقوق ادا کریں مگر میں کسی کا حق ادا نہ کروں اگر ہماری طبیعت میں سے غُرُور وتَکَبُّر نکل جائے، عا جِزی اور تو اضُع پیدا ہو جائے، ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے حُقُوق کا خیال رکھے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کبھی جھگڑے کی نوبَت ہی نہ آئے۔

تیسری بیماری یہ ہے کہ ہمارے اکثر مسلمانوں میں بچّے کی پیدائش سے لے کر مرنے تک مختلف موقَعَوں پر ایسی تباہ کن رَسمیں جاری ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔شادی بِیاہ کی رسموں کی بدولت ہزاروں مسلمانوں کی جائیداد یں ، مکانات، دُکانیں سُودی قرضے میں چلی گئیں اور بَہُت سے اَعلیٰ خاندانوں کے لوگ آج کِرایہ کے مکانوں میں گز ر کررہے ہیں اور ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔اپنی قوم کی اِس مصیبت کودیکھ کرمیرا دل بھر آیا، طبیعت میں جوش پیداہوا کہ کچھ خدمت کروں۔روشنائی کے چند قطرے حقیقت میں میرے آنسوؤں کے قطرے ہیں ، خدا کرے کہ اس سے قوم کی

 



Total Pages: 48

Go To