Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اَعمال نے مجھے کوئی فائدہ نہ دیا ۔  صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی گستاخی کی وجہ سے مجھے مرنے کے بعد گھسیٹ کر جہنَّم کی طرف لے جایاگیا اور وہاں  مجھے میرا ٹھکانا دکھایا گیااور کہا گیا  : ’’ اب تجھے دوبارہ زندہ کیا جائے گا تا کہ تُو اپنے بد عقیدہ ساتھیوں  کو اپنے درد ناک اَنجام کی خبر دے اور اُنہیں  بتائے کہ اللہُ غفّار عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں  سے دشمنی رکھنے والا آخِرت میں  کس قَدَردرد ناک عذاب کا مُسْتَحِق ہے  ۔  جب تُو اُن کو اپنے بارے میں  بتا چکے گا تو تجھے دو بارہ تیرے اصلی ٹھکا نے (یعنی جہنَّم) میں  ڈال دیا جائے گا ۔ ‘‘بس! یہ خبر دینے کے لئے مجھے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے تا کہ میری اِس عبرت ناک حالت سے گستاخانِ صَحابہ عبرت حاصل کریں  اور اپنی  گستا خیوں  سے باز آجائیں  و ر نہ جو اِن حضراتِ قُدسِیَّہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شانِ عَظَمت نشان میں  گستاخی کرے گا اُس کا انجام بھی میری طر ح ہو گا  ۔  اِتناکہنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مُردہ حالت میں  ہوگیا  ۔ اِتنی دیر میں  قبر کھودی جاچکی تھی اورکفَن کاانتِظام بھی ہوچکا تھا لیکن میں  نے کہا :  میں  ایسے بدبخت کی  تَجْہِیْز وتَکْفِیْنہر گز نہیں  کرو ں  گا جوشَیْخَیْنِ کَرِیْمَیْن (یعنی حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اَکبرا ور حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کاگستا خ ہواور میں  تَواِس کے پاس ٹھہرنا بھی گوارا نہیں  کرتا ۔  یہ کہہ کر میں  وہاں  سے واپَس چل دیا ۔ بعد میں  مجھے کسی نے خبر دی کہ اُس کے بدعقیدہ ساتھیوں  نے ہی اُس کو غُسل دیااورنَمازِ جنازہ پڑھی ۔ اُن کے عِلاوہ کسی نے بھی نَمازِ جنازہ میں  شرکت نہ کی ۔  حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمِیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْعَظِیْم  فرماتے ہیں   :  میں  نے  حضرتِ سیِّدُنا ابوالحُصَیب بشیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْقَدِیْر سے پوچھا :  کیا آپ اس واقِعے کے وقت وہاں  موجود تھے ؟ انہوں  نے جواب دیا :  جی ہاں  ! میں  نے اپنی آنکھوں  سے اُس بدبخت کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا اور اپنے کانوں  سے اُس کی باتیں  سنیں  ۔ یہ واقِعہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمِیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْعَظِیْم نے فرمایا :  اب میں  گستاخانِ صحابہ کے اِس عبرت ناک اَنجام کی خبر لوگو ں  کوضَرور دوں  گا تاکہ وہعبرت پکڑیں  اور اپنی عاقبت کی فکر کریں  ۔  (عیون الحکایات (عربی) ص۱۵۲)

        رَبُّ الْاَنَام عَزَّوَجَلَّ ہمیں  صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شانِ عَظَمت نشان میں  گستاخی وبے ادَبی سے محفو ظ رکھے اور تمام صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سچی مَحَبَّت اور اُن کی خوب خوب تعظیم کرنے کی سعادت عنایت فرمائے  ۔ اللہُرَحمٰن عَزَّوَجَلَّہم سب کو اپنی حفاظت میں  رکھے ،ہمیں  بے اَدبوں  اور گستاخوں  سے ہمیشہ محفوظ ومامون رکھے اور ہم سے کبھی ادنیٰ سی گستاخی بھی سر زد نہ ہو ۔

محفوظ سدا رکھنا خدا بے ادَبوں  سے

اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادَبی ہو (وسائلِ بخشش ص ۱۹۳)

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!             صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

      اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! گستاخوں  کا اَنجام بڑا درد ناک وعبرتناک ہوتا ہے  ۔  ایسے نامُرادزمانے بھر کے لئے عبرت کا سامان بن جاتے ہیں  ۔  جو اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پاک بارگاہوں  میں  نازیبا کلمات کہتے یا صَحابۂ کِرام واَولیائِ عُظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی مبارک شانوں  میں  مُزَخرَفات (مُ ۔ زَخ ۔ رَ ۔ فات ۔ یعنی گالیاں  ) بکتے ہیں  آخِرت میں  تو تباہی و بر بادی اُن کا مقدَّرضَروربنے گی مگر وہ دنیا میں  بھی ذلیل ورُسوا ہو کر زمانے بھر کے لئے نشانِ عبرت بن جاتے ہیں  اور حقیقی مسلمان کبھی بھی اُ ن کے عقائِد و اَعمال کی پیروی نہیں  کرتے  ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں  ہمیشہ با ادب رہنے اور باادب لوگو ں  یعنی عاشقانِ رسولکی صحبت اِختِیارکرنے کی توفیقِ رفیق مرحمت فرمائے اوربے ادَبوں  اور گستاخوں  کی صحبت سے ہماری حفاظت فرمائے  ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ



Total Pages: 21

Go To