Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

     صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں   : ’’مسلمان کو چاہیے کہ صَحابۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کا نہایت ادَب رکھے اور دل میں  اُن کی عقیدت ومَحَبَّت کو جگہ دے  ۔  اُن کی مَحَبَّت حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی مَحَبَّت ہے اور جو بد نصیب صَحا بۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)  کی شان میں  بے ادَبی کے ساتھ زَبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ہے ،مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے  ۔ ‘‘ (سوانِحِ کربلا ص۳۱ )میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں   :  

اہلسنّت کا ہے بَیڑا پار اَصحابِ حُضُور

نَجْم ہیں  اور ناؤ ہے عِتْرَت  رسولُ  اللہ کی           (حدائقِ بخشش)

      اس شعر کامطلب ہے کہ اہلسنَّت کا بیڑا (یعنی کَشتی)پار ہے کیونکہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اِن کیلئے ستاروں  کی مانِند اور اہلِ بیتِ اَطہار عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کشتی کی طرح ہیں  ۔

مُردہ چیخنے لگا،ساتھی بھاگ کھڑے ہوئے

      دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 413 صفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ عُیُونُ الحِکایات‘‘حصّہ اوّلصَفْحَہ246پر حضرتِ سیِّدُنا امام عبد الرَّحمن بن علی جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی تحریر فرماتے ہیں   :  حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بِن تَمِیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْعَظِیْم فرماتے ہیں  کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوالْحُصَیب بشیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْقَدِیْر  کا بَیان ہے کہ میں  تجارت کیا کرتا تھا اور اللہُ غفّار عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرَم سے کافی مال دار تھا ۔  مجھے ہر طر ح کی آسائِشیں  مُیَسَّر  تھیں  اور میں  اکثر ’’ایران‘‘ کے شہروں  میں  رہا کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ مجھے میرے مزدور نے بتایا کہ فُلاں  مسافر خانے میں  ایک لاش بے گورو کفن پڑی ہے ،کوئی دفنانے والا نہیں  ۔ یہ سن کر مجھے اُس مرنے والے کی بے کسی پر ترس آیا اور خیرخواہی کی نیّت سے تَجْہِیْز وتَکْفِیْن کا اِنتِظام کرنے کیلئے میں  مسافِر خانے پہنچا تو دیکھا کہ ایک لاش پڑی ہے جس کے پیٹ پر کچّی اینٹیں  رکھی ہیں  ۔  میں  نے ایک چادر اُس پر ڈال دی، اُس لاش کے قریب اُس کے ساتھی بھی بیٹھے تھے  ۔  اُنہوں  نے مجھے بتایاکہ یہ شخص بَہُت عِبادت گُزار اور نِکوکار تھا،ہمارے پاس اتنی رقم نہیں  کہ ہم اِس کیتَجْہِیْز وتَکْفِیْن کا اِنتِظام کرسکیں  ۔ یہ سن کر میں  نے اُجرت پر ایک شخص کو کفَن لینے اوردوسرے کو قَبْرکھودنے کے لئے بھیجا اور ہم لوگ ملکر اُس کیقَبْرکے لئے کچّی اِینٹیں  تیّار کرنے اور اُسے غُسل دینے کے لئے پانی گَرْم کرنے لگے  ۔  ابھی ہم اِنہیں  کاموں  میں  مشغول تھے کہ یکایک وہ مُردہ اُٹھ بیٹھا، اینٹیں  اُس کے پیٹ سے گر گئیں  پھروہ بڑی بَھیانک آواز میں  چیخنے لگا :  ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! اُس کے ساتھی یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہاں  سے بھاگ کھڑے ہوئے  ۔ لیکن میں  ہمّت کرکے اُس کے قریب گیااور بازو پکڑ کر اُسے ہلایا اور پوچھا :  تُو کون ہے اور تیرا کیا مَعاملہ ہے ؟ وہ کہنے لگا : ’’میں  کُوفے کارہائشی تھا اور بد قسمتی سے مجھے ایسے بُرے لوگوں  کی صحبت ملی جو حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اَکبرا ور حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو گالیاں  دیا کرتے تھے  ۔  مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ!اُن کی بُری صُحبت  کی وجہ سے میں  بھی اُن کے ساتھ مل کر شَیْخَیْن کَرِیْمَیْن یعنی حضر تِ سیِّدُنا صِدِّیق اَکبرا ور حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو گالیاں  دیتااو راُن سے نفرت کرتا تھا  ۔  ‘‘حضرتِ سیِّدُنا ابوالْحُصَیب بشیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْقَدِیْد   فرما تے ہیں   : یہ سن کر میں  نے توبہ واِستِغفارکی اور اُسے کہا :  اے بد بخت !پھر تَوتُو واقِعی سخت سزا کا مُسْتَحِقہے لیکن یہ تَوبتا کہ تُو مرنے کے بعد زندہ کیسے ہوگیا ؟ تو وہ کہنے لگا :  میرے نیک



Total Pages: 21

Go To