Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نے بُری رُسومات اور مسلمانوں کے بگڑے ہوئے حالات کی جوکچھ کیفیات بیان فرمائی ہیں اُن کاخُلاصہ کچھ یوں ہے: آج کو ن سا دَرْ د ر کھنے والا دِل ہے جو مسلمانوں کی موجودہ پَستی اور اِن کی موجودہ ذِلّت وخواری اور ناداری پر نہ دُکھتا ہو اور کون سی آنکھ ہے جو اِن کی غربت،مُفلِسی، بے روْز گاری پرآنسو نہ بہاتی ہو !حُکومت اِن سے چِھنِی، دولت سے یہ محروم ہوئے، عزَّت ووقار اِن کا خَتْم ہوچکا، زمانے بھرکی مصیبت کا شکار مسلمان بن رہے ہیں ، اِن حالات کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، مگر دوستو! فقط رونے دھونے سے کام نہیں چلتا بلکہ ضَروری یہ ہے کہ اِس کے عِلاج پر غور کیا جائے۔عِلاج کے لئے چند چیزیں سوچنی چاہئیں (1) اصل بیماری کیا ہے؟(2) اِس کی وجہ کیا ؟ مَرَض کیوں پیدا ہوا ؟ (3) اِس کا علاج کیا ہے؟(4) اِس عِلاج میں پرہیز کیا کیاہے؟ اگر اِن چا ر باتو ں میں غور کر لو تو سمجھ لو کہ عِلاج آسان ہے ۔کئی لیڈرانِ قوم اورپیشوایانِ ملک نے اَقوامِ مسلِم کے عِلاج کا بِیڑا اُٹھایا مگرناکامی ہی ملی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے جس کسی نیک بندے نے مسلمانوں کو اُن کا صحیح عِلاج بتا یا تو بعض نادان مسلمانوں نے اُس کا مَذاق اُڑایا، اُس پر پَھبتیاں کسیں ، زبانِ طعن دراز کی، غرضیکہ صحیح طبیبو ں کی آواز پر کان نہ دھرا۔

مسلمانوں کی بادشاہَت گئی، عزّت گئی، دولت گئی، وقار گیا،صِرْف ایک وجہ سے وہ یہ کہ ہم نے شریعتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی چھوڑ دی، ہماری زندَگی اسلامی زندگی نہ رہی۔اِن تمام نُحوستوں کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف ، نبیِّ


 

 



Total Pages: 48

Go To