Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کے حامِل ہوتے ہیں  ۔ سچ ہے کہ جو خدا عَزَّوَجَلَّ کے ہوجاتے ہیں  خدائی (یعنی دُنیا)اُن کی ہوجاتی ہے  ۔  

’’عُمَرفاروق‘‘ کے 8حُرُوف کی نسبت سے 8فضائلِ حضرتِ عُمَربَزَبانِ محبوبِ ربِّ اکبر

     {1}مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلٰی رَجُلٍ خَیْرٍ مِّنْ عُمَرَیعنی  حضرت عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰیعَنْہ) سے بہتر کسی آدَمی پر سورج طُلوع نہیں  ہوا ۔  (تِرمِذی ج۵ ص۳۸۴ حدیث۳۷۰۴)

تَرجُمانِ نبی ہم زَبانِ نبی

                            جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں  سلام(حدائقِ بخشش شریف)

{2}آسمان کے تمام فرشتے حضرت  عُمَر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی عزَّت کرتے ہیں  اور زمین کا ہر شیطان ان کے خوف سے لرزتا ہے ([1]) {3}لَا یُحِبُّ اَبَا بَکْرٍ وَّ عُمَرَ مُنَافِقٌ وَلَا یُبْغِضُہُمَا مُؤمِنٌ یعنی (حضرت ) ابوبکر اور(حضرت ) عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)سے مُؤمِن مَحَبَّت رکھتا ہے اور مُنافِق ان سے بُغْض رکھتا ہے ([2]) {4} عُمَرُ سِرَاجُ اَہْلِ الْجَنَّۃِیعنی  (حضرت )  عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) اَہلِ جنّت کے چَراغ ہیں  ۔ ([3]) {5} ہٰذَا رَجُلٌ لاَّ یُحِبُّ الْبَاطِلَیعنی یہ( حضرت عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) وہ شخص ہے جو باطِل کو پسند نہیں  کرتا([4])  {6}’’تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گاتو ۔ ‘‘  حضرت عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) تشریف لائے ([5]){7}رِضَا اللہِ رِضَا عُمَرَ وَرِضَا عُمَرَ رِضَا اللہِ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاحضرت  عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی رضا ہے اور حضرت  عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی رضا اللہ تَعَالٰی کی رضا ہے ([6]){8} اِنَّ اللہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ یعنی   ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے  عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی زبان اوردل پر حق جاری فرمایا ۔ ‘‘([7])

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان  اِس حدیثِپاک (نمبر8)کے تحت فرماتے ہیں   : یعنی ان کے دل میں  جو خیالات آتے ہیں  وہ حق ہوتے ہیں  اور زبان سے جو بولتے ہیں  وہ حق بولتے ہیں  ۔ ( مراۃ ج۸ص۳۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ہمیں  حضرتِ عُمَر سے پیار ہے

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ نے حضرت ِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اَعظَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عالیشان مرتبہ عطافرمایا اور بَہُت زیادہ عزّت وشرافت اور فضیلت وکرامت سے نوازا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شانِ رِفعت نشان کو تسلیم کرنا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو برحق جان کر راہِ ہدایت کا روشن مینار سمجھنا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَحَبَّتوعقیدت رکھنا نہایت ضَروری ہے جیسا کہ جلیلُ الْقَدْرصَحابی حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رِوایت کرتے ہیں  کہ محبوبِ ربِّ دو جہان، شاہِ کون ومکان، سروَرِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ توجُّہ نشان ہے :  مَنْ اَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَمَنْ اَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ اَحَبَّنِیْیعنی جس شخص نے حضرت   عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے بُغْض رکھا اُس نے مجھ سے بُغْض رکھا اور جس نے حضرت   عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) سیمَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ۔  (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ص۱۰۲حدیث ۶۷۲۶)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیارے ، آسمانِ ہدایَت کے چمکتے دَمَکتے سِتارے ، دکھی دل کے سہارے ،غلامانِ مصطَفٰے کی آنکھوں  کے تارے حضرتِ سیِّدُنا ابوحَفْص عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان



[1]    تاریخ دمشق ج ۴۴ ص ۸۵  

[2]    ایضاًص۲۲۵

[3]    مَجْمَعُ الزَّوائِد ج۹ ص ۷۷ حدیث ۱۴۴۶۱

[4]    مُسندِ اِمام احمد ج۵ص۳۰۲حدیث۱۵۵۸۵

[5]    تِرمِذی ج۵ ص۳۸۸حدیث ۳۷۱۴