Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حاصِل ہوگا اُسی قدَر اُس کا دَرَجۂ وِلایت بُلند سے بُلند ترہوگا۔ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن چونکہ نِگاہِ نُبُوَّت کے اَنوار اور فیضانِ رِسالت کے فُیُوض و بَرَکات سے مُستَفِیض ہوئے، اِ س لئے بارگاہِ ربِّ لَمْ یَزَلْ عَزَّوَجَلَّ میں اِن بُزُرگوں کو جو قُرْبوتَقَرُّب حاصِل ہے وہ دوسرے اَولیاءُ اللہ رَحِمَھُمُ اللہکو حاصِل نہیں۔ اِس لئے اگرچِہ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بَہُت کم کرامتیں منقول ہوئیں لیکن پھر بھی اُن کادرَجۂ وِلایت دیگر اَولیاءِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے حددَرَجہ اَفضل و اَعلیٰ اوربُلند وبالا ہے۔

سرکارِ دو عالَم سے ملاقات کا عالَم عالَم میں ہے مِعراجِ کمالات کا عالَم

یہ راضی خدا سے ہیں خدا اِن سے ہے راضی کیا کہئے صحابہ کی کرامات کا عالَم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دریائے نیل کے نام خط

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 192 صفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ سَوانِحِ کربلا‘ ‘ صَفْحَہ56 تا57پرصدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی تحریر فرماتے ہیں : جس کا خُلاصہ کچھ یوں ہے: جب مصرفتح ہوا تو ایک روز اہلِ مِصْرنے حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: اے امیر! ہمارے دریائے نیل کی ایک رَسْم ہے جب تک اُس کو ادانہ کیا جائے دریاجاری نہیں رہتا۔ انہوں نے اِستفسار فرمایا:کیا؟ کہا: ہم ایک کَنواری لڑکی کو اُس

 



Total Pages: 48

Go To