Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

سے نقل کرتے ہیں   : اگر ذمّی([1])   کو تعظیماً سلام کرے کافِر ہو جائے گا کہ کافِر کی تعظیم کُفر ہے ۔  ( دُرِّمُختارج ۹ ص ۶۸۱) اگر مجوسی کو بطورِ تعظیم  ’’  اے استاد ‘‘  کہا کافِر ہو گیا ۔  (اَیضاً)مطلب یہ ہے کہ اگر کافِر کے کُفر کو اچّھا جان کر تعظیم کرے گا تو خود کافِر ہو جائے گا ۔   

       بدمذہبوں   سے سلام دعا کرنا کیسا ؟  

سُوال :  بد مذہبوں   کو سلام اور ان کے ساتھ مُصَافحہ(یعنی ہاتھ ملانا) وغیرہ کر سکتے ہیں   یا نہیں  ؟

جواب :  نہیں   کر سکتے  ۔ سلطانِ عَرَب، محبوبِ ربعَزَّوَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کافرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ جو کسی بد مذہب کو سلام کرے یا اُس سے بَکُشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اُس سے پیش آئے جس میں   اُس کا دل خوش ہو، اس نے اس چیز کی تحقیر کی جو اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   پر اُتاری ۔  ‘‘ (تاریخ بغداد ج۱۰ ص ۲۶۲ ) رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ دِلپذیر ہے :  جس نے کسی بد مذہب کی(تعظیم و) توقیر کی اُس نے دین کے ڈھادینے پر مدد دی ۔     (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرانِیّ ج۵ص۱۱۸حدیث ۶۷۷۲ ) میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فتاوٰی رضویہ شریف  جلد21 صَفْحَہ 184پر فرماتے ہیں  :  سُنیّوں   کو غیر مذہب والوں   سے اِختِلاط( میل جول) ناجائز ہے خُصُوصاً یُوں   کہ وہ (بدمذہب)  افسر ہوں   یہ (سُنّی ) ماتحت ۔ قالَ اللّٰہ تعالٰی(یعنی اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے ) :

وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) (پ۷ الانعام ۶۸)

ترجَمۂ کنزالایمان : اورجو کہیں   تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں   کے پاس نہ بیٹھ ۔

            رحمتِ عالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ معظم ہے : تم ان سے دُور رہو اور وہ تم سے دُور رہیں  ، کہیں   تمہیں   گمراہ نہ کر دیں   اور فتنے میں   نہ ڈال دیں  ۔ ( مقدمہ صحیح مسلم ص۹حدیث ۷)

  کُفّار کے ساتھ مشترکہ کھانا پکانا کیسا ؟

سُوال :  پاکستان کے باہَر ملازَمت کرنے والے چَھڑے افراد جن میں مسلمان اور کافِر سبھی ہوتے ہیں   ، اکثرایک ہی کمرے میں   مل جُل کر رہتے اور مُشْتَرَکہ(مُشْ ۔ تَ ۔ رَ ۔ کَہ) کھانا پکا کر کھاتے ہیں  ۔ ان کے بارے میں   کیا حکم ہے ؟

جواب :  اس طرح کے ایک سُوال کے جواب میں   وقارُ المِلّت حضرتِ مولیٰنا مفتی محمد وَقار الدّین قادِری رَضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی   فرماتے ہیں  : مسلمان کو کسی غیر مسلم کے ساتھ دوستی اور مَحَبَّتکے تَعَلُّقات رکھنا جائز نہیں   ۔ لہٰذا صورتِ مَسْؤلہ میں   ایک ساتھ کھانا پکانا اور مَحَبَّت کے تَعَلُّقات قائم رکھنا جائز نہیں  ۔ اگر غیر مسلم کھانا وغیرہ فروخت کرتا ہے تو اُس سے وہ چیزیں   خرید کر کھانا جائز ہیں   جن میں   گوشت کی مِلاوٹ نہ ہو، گوشت غیر مسلم کا پکایاہوا مسلمان خرید کر بھی نہیں   کھا سکتا  ۔ ([2])لہٰذا سب لوگ جب ایک مکان میں   رہتے ہیں   تو مسلمانوں   کو اپنے کھانے پینے کا انتِظام علیٰحدہ کرنا چاہئے ۔  (وقارُ الفتاوٰی ج۱ ص ۳۴۵)

اولیاء سے مَحَبَّت اور کُفّار سے عَداوَت فرضِ اعظم ہے

            میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   :  ’’  ہر مسلمان پر فرضِ اعظم ہے کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے تمام دوستوں   (یعنی نبیوں  ، صحابیوں   اور ولیوں   وغیرہ ) سے مَحَبَّت اور اس کے سب دشمنوں   ( یعنی کافِروں   ، بدمذہبوں   ، بے دینوں   اور مُرتَدوں   ) سے عداوت رکھے ۔  ‘‘  

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کافِروں   کے پاس پڑھنے ، ان کے ساتھ مل جُل کر کام کاج کرنے اور ان کی صُحبت اختیار کرنے میں   ایمان کیلئے سخت خطرہ رہتا ہے کیوں   کہ وقتاً فوقتاً دورانِ بات وہ کُفرِیّات بکتے ہیں   اور اگر شاگرد یا مُلازِم وغیر ہ نے معنیٰ سمجھنے کے باوُجُود کسی قطعی کُفر پر مبنی جُملے پر مُرُوَّتاً  بھی ہاں    میں   ہاں   کر دی تو اس کابھی ایمان برباد ہوگیا ۔  اللّٰہُ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ   ہمارا ایمان سلامت رکھے  ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  

کافِر کا جُھوٹا کھانا

سُوال :  کافر کا جُھوٹا کھانا کھا سکتے ہیں   یا نہیں  ؟

جواب :  بچنا مناسِب ہے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمت میں   پوچھا جانے والا سُوال اور اُس کے جواب کا اِقتِباس مُلاحَظہ ہو ۔  سُوال :  کیا فرماتے ہیں    عُلَمائے دین اِس مسئلہ میں   کہ اگر کوئی کافِر ایک برتن میں   کھانا کھائے اور برتن میں   کچھ کھانا باقی رہے تو باقی کھانا مسلمان کھا سکتا ہے یا نہیں  ؟ الجواب :  اللہ تعالیٰ کی بے شُمار رحمتیں   حضرتِ شیخ سعدی  قُدِّسَ سِرُّہٗ پر کہ فرماتے ہیں   :

 نِیْم  خُوْردَۂ ِ سَگ ہَم سَگ را شاید

   (کُتے کا جُھوٹا کتّے ہی کے لائق ہے یعنی وُہی کھائے )

                                                            



Total Pages: 147

Go To