Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

نہ وسوسے آئیں   نہ مجھے گندے خیالات

کر ذہن کا اللہ عطا قفلِ مدینہ

بُرے خاتِمے کے خوف سے رونا

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  جہاں   مال ودولت کازَور ہوتا ہے وہاں   چور آتا ہے اور جہاں   کامِل ایمان ہوتا ہے وَہاں   ایمان کاچو ر شیطان آتا ہے ۔ وَسْوَسوں    کی طرف سے بِالکل دھیان ہٹا دینا بھی دافِعِ وَسوسہ ہے ۔  ہاں   مگر ایمان کی حفاظت سے غفلت برتنا انتہا ئی خطرناک ہے ۔ ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین ایمان کی سلامتی کے بارے میں   اِنتہائی مُتَفَکِّر(یعنی فکر مند) رہتے تھے ۔  چُنانچِہحُجَّۃُ الاسلام سیِّدُناامام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الوالی نَقل کرتے ہیں   : حضرتِ سیِّدُنا سُفیان ثَوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ بوقتِ وفات رونے اور چِلّانے لگے ۔  لوگوں   نے دِلاسہ دیتے ہوئے عرض کی  : یا سیِّدی ! گھبرائیے نہیں  ، اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ    کی رَحمت پر نظر رکھئے ۔  فرمایا : بُرے خاتِمے کا خوف رُلا رہا ہے اگر ایمان پر خاتِمے کی ضَمانت مل جائے تو پھر مجھے اِس بات کی پرواہ نہیں   اگر چِہ پہاڑوں   کے برابر گناہوں   کے ساتھ ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّسے ملاقات کروں  ۔   (اِحیاء الْعلوم ج۴ص۲۱۱)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      

مسلماں   ہے عطارؔ تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتِمہ یا الہٰیعَزَّوَجَلَّ

کُفّار سے دوستی وغیرہ کے بارے میں   سُوال جواب

کافِر سے دوستی  رکھنا حرام ہے

سُوال :  کافِر سے دوستی رکھنا کیسا ہے ؟

جواب :  حرام ہے ۔  یاد رکھئے  ! بُری صُحبت بُرا رنگ لاتی ہے ، جو لوگ کُفّار کے مُمالِک میں   تعلیم یا رُوزگا ر کے سلسلے میں  جاتے اور وہاں   کُفّار کی صحبتیں   اپناتے ہیں   نیز جو لوگ اسلامی ممالِک میں   بھی کفّار کو دوست بناتے اور ان سے دوستیاں   رَچاتے ہیں   اُن سب کے لئے لمحۂ فکرِیَّہ ہے ۔  ’’ خَزائنُ العِرفان ‘‘ صَفْحہ96پر ہے :     ’’  کُفّار سے دوستی و مَحَبَّتممَنوع و حرام ہے ۔  انہیں   راز داربنانا ، ان سے مُوالات (یعنی باہَمی اتّحاد )کرنا ناجائز ہے ۔  اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صِرْف ظاہِری برتاؤ جائز ہے ۔  ‘‘

             پارہ 3 سورۂ اٰ لِ عِمران کی 28 ویں   آیتِ کریمہ میں   خدائے رحمٰن    عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ(پ ۳ اٰلِ عمران ۲۸)

تَرْجَمَۂ کنزالایمان :  مسلمان ، کافِروں   کو اپنا دوست نہ بنا لیں   مسلمانوں   کے سوا، اور جو ایسا کرے گا اسے  اللہ (عَزَّوَجَلَّ)سے کچھ عِلاقہ نہ رہا ۔

            کافر سے مَحَبَّت کرنے کا حُکم

سُوال :  کیا کافِر سے مَحَبَّت  بھی نہیں  رکھ سکتے ؟

جواب : جی نہیں  ۔ ان سے نہ دوستی رکھ سکتے ہیں   نہ ہی مَحَبَّت ۔  چُنانچِہ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّتحضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان تفسیرِنعیمی میں   فرماتے ہیں   : کُفّار سے مَحَبَّت سخت منع ہے ۔ اس کی مُمانَعَت میں   بَہُت آیتیں   اور بے شمار حدیثیں   وارِد ہوئیں   ۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے  :

لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ

تَرْجَمَۂ کنزالایمان :  یہودو نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔

 نیز فرماتا ہے  :

لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ

تَرْجَمَۂ کنزالایمان :  میرے اور  اپنے دشمنوں   کو دوست نہ بناؤ  ۔

  نیز فرماتا ہے  :

 لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-    (پ۲۸المجادلہ۲۲)

تَرْجَمَۂ کنزالایمان :  تم نہ پاؤ گے ان لوگوں   کوجو یقین رکھتے ہیں    اللہ (عَزَّوَجَلَّ)  اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں   ان سے جنہوں   نے اللہ  (عَزَّوَجَلَّ)   اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چِہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاکنبے والے ہوں  ۔  اِلخ

             احادیث میں   بھی اس کی سخت مُمانَعَت آئی ہے مگر خیال رہے کہ تَعلُّقات کی چندقِسمیں   ہیں   اور ان کے جُدا گانہ احکام ۔ دوستی ، مَحَبَّت ، مَیلانِ طَبع ، بِرّ وقسط ، قرابت داری ، ادائے حقوق ، دُنیوی مُعامَلات ، مَیل جُول یعنی نِشست وبر خاست ۔ ان سب کے مختلِف اَحکام ہیں   ، دُنیوی مُعاملات یعنی تجارتی لَین دَین وغیرہ کفّارسے جائز ہے ۔ ادائے حُقوق جائز ۔ کافر ماں   باپ کا حقِّ مادَری وپِدَری ادا کیا جائے گا ۔

 



Total Pages: 147

Go To