Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

{4}کسی سے کہا کہ یہ کیا تُونے عِمامہ وغیرہ پاگلوں   والا لباس پہنا ہوا ہے !   یہکلِمۂ کُفْرہے ۔

{5} سُنَّت کی تحقیر کفر ہے {6}جیسے داڑھی بڑھانا {7}مونچھیں   کم کرنا {8} عِمامہ باندھنا، {9}شِملہ لٹکانا ۔  ان کی اِہانت (یعنی توہین ) کُفرہے جبکہ سُنَّت کی توہین مقصود ہو ۔  (بہارشریعت حصّہ ۹ ص۱۸۱)

{10} سُنَّت کی توہین کرتے ہوئے کسی سے کہا :  ’’ تجھے داڑھی اچّھی نہیں   لگ رہی ‘‘  یا {11}کہا :  ’’  تیرا چِہرہ داڑھی کے سبب بگڑ گیا ہے ۔  ‘‘  یہ دونوں   باتیں   کُفر ہیں   ۔

{12} سُنَّت کی توہین کرتے ہوئے ، داڑھی کو بُرش کہنا یا {13} داڑھی والے کا مذاق اُڑاتے ہوئے اُس کو داڑھی والا بکرا کہنا دونوں کفریات ہیں  ۔

{14} عمامہ شریف کو زمین پر دے مارنا یا {15} پھاڑ ڈالنا یا {16} جلا دینا یہ تینوں   باتیں   اگر سُنَّت کی توہین کی نیّت سے ہوں   تو کُفر ہیں    ۔

{17} ’’ شَیو سے تو چِہرہ نورانی ہوجاتا ہے اور داڑھی سے بے رونق ۔  ‘‘ یہ کَلِمۂ کُفر ہے ۔

 {18}کسی سے کہا گیا : سرمُنڈواؤ اور{19} ناخن کاٹو کہ یہ سنّت ہے اُس نے بطورِ انکار اور بطورِ رَدّ کے سنّت کو ٹھکراتے ہوئے کہا :  میں   نہیں   کرتا اگرچِہ سنّت ہی ہو ۔ ایسے پرحکمِ کفر ہے اور یِہی حکم ہر سنّت کے بارے میں   ہے ۔ ( مَجْمَعُ الْاَنْہُرج۲ ص۵۰۷ )

{20}داڑھی مُنڈانے کو سنّت کہنا کلمۂ کُفْرہے ۔  ( فتاوٰی رضویہ  ج۱۵ ص ۲۶۶)

{21}زَید نے کھانے کے بعد اُنگلیاں   چاٹیں    ۔ بکر نے ٹوکتے ہوئے کہا :  یہ تہذیب کے خِلاف ہے ۔  زید نے کہا :  یہ سنّتِ رسول ہے ۔  بکر نے بکا : یہ سنتِ رسول ہو تب بھی میری عقل میں   نہیں   آتا انگلیاں   چاٹنا خلافِ تہذیب ہی ہے ۔ بکر پر حکمِ کفر ہے ۔

 کُفرِیّہ وَساوِس کے بارے میں   سُوال جواب

ذِہن میں   کُفر یہ خیالات آنا

سُوال : اُس شخْص کے بارے میں  کیا حُکْم ہے جو کہتا ہے کہ پرِیشانی کے عالَم میں   میرے ذِہن میں   کُفْرِیّہ خَیالات آتے رہتے ہیں    ۔

جواب : ذِہن میں   کُفْرِیَّہ خیالات کا آنااور انہیں   بیان کرنے کو بُرا سمجھنا عَین اِیمان کی عَلامَت ہے کیونکہ کُفْرِیّہ وساوِس شَیْطان کی طرف سے ہوتے ہیں   اور وہ لَعِیْن مَرْدُوْد چاہتا ہے کہ مسلمان سے ایمان کی دولت چھین لے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبیِّ رَحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ سراپا عظمت میں   بعض صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے حاضِر ہو کر عرض کی :  ہمیں   ایسے خَیالات آتے ہیں   کہ جنہیں   بَیان کرنا ہم بَہُت بُرا سمجھتے ہیں   ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  کیاواقِعی ایسا ہوتا ہے ؟ اُنہوں   نے عَرض کی :  جی ہاں    ۔ ارشاد فرمایا :   ’’ یہ توخالِص ایمان  کی نشانی ہے ۔  ‘‘ ( مُسلِمص۸۰حدیث ۱۳۲ )

       صدرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُ الطَّریقہ، حضرتِ علّامہ مَولانامفتی محمد امجد علی اَعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں   :  ’’  کُفْری بات کا دل میں   خیال پیدا ہوا اورزَبان سے بولنا بُرا جانتا ہے تو یہ کُفْر نہیں   بلکہ خاص اِیمان کی عَلامَت ہے کہ دِل میں    اِیمان نہ ہوتا تو اسے بُراکیوں   جانتا ۔  ‘‘   (بہارِشریعت حصّہ ۹ ص ۱۷۴ )مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ وسوسے اور اُن کا علاج  ہَدِیّۃً حاصِل کر کے پڑھ لیجئے ۔

   ’’ مجھے فُلاں   کُفرِیہ وسوسے آتے ہیں   ‘‘  کہنا کیسا ؟

سُوال :  اگرکسی کے سامنے تذکِرہ کیاکہ مجھے فُلاں   فُلاں   کفریہ وسوسے آتے ہیں  ، میں   ان سے تنگ ہوں  ، مجھے کوئی علاج بتایئے ۔  کیا اِس صورت میں   بھی حکم ِکفر ہے ؟

جواب : نہیں   ، اِس صورت میں   حکمِ کفر نہیں   ۔

وَسوَسوں   کے تین علاج

{1}مُسلِم  شریف کی روایت میں  ہے کہ محبوبِ ربِّ ذوالجلال، شاہِ خوشخصال ، شَہَنْشاہِ شیریں   مَقال، صاحِبِ جُودونَوال عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ باکمال ہے : لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں   گے یہاں   تک کہ یہ کہاجائے گا کہ مخلوق کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے پیدا فرمایا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کوکس نے پیداکیا ؟توجس کے دل میں   اِس قسم کا خیال آئے وہ یوں   کہے :   ’’ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ  وَرُسُلِہٖ ۔  ‘‘ یعنی میں   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسولوں   پرایمان لایا ۔  (صَحِیح مُس



Total Pages: 147

Go To