Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

ہوتاہے مگر اس(تعریف کرنے والے ) شخص کی زَبان اور دل میں   اختلاف ہوتا ہے ۔  (قُوتُ القُلوب ج۱ ص ۴۷۱مُلَخَّصاً )

            خوشامد کے عادیوں   کیلئے بس عبرت ہی عبرت ہے ، سچ یِہی ہے کہ زِیادہ بولنے میں   پھنسنا ہی پھنسنا ہے ۔  یا ربِّ مصطَفٰیعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ہمیں   اِخلاص کی دولت اور زبان کے قفلِ مدینہ کی نعمت سے نواز دے  ۔

مِرا ہر عمل بس تِرے واسطے ہو

کر اِخلاص ایسا عطا یا الہٰیعَزَّوَجَلَّ

                        اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      

جس کو بربادیٔ ایمان کا خوف نہ ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  کاش  ! ایمان کی سلامَتی کی مَدَنی سوچ نصیب ہو جائے ، صدکروڑ کاش !  ہر وَقت بُرے خاتِمے کے خوف سے دل گھبراتا رہے ، دن میں   بار بار توبہ و استِغفار کا سلسلہ رہے ۔ اللّٰہُ غفّارعَزَّوَجَلَّ کے دربارِ کرم بار سے ایمان کی حفاظت کی بھیک مانگنے کی رَٹ جاری رہے ۔ تشویش اور سخت تشویش کی بات یہ ہے کہ جس طرح دُنیوی دولت کی حفاظت کے مُعامَلے میں   غفلت اُس کے ضِیاع ( یعنی ضائِع ہونے ) کاسبب بن سکتی ہے اِسی طرح بلکہ اِس سے بھی زیادہ سخت مُعامَلہ ایمان کا ہے ۔  چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  561 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ ملفوظات اعلیٰ حضرت ‘‘  صَفْحَہ 495پر میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا ارشاد ہے :  عُلمائے کرام فر ماتے ہیں   :  ’’ جس کو سَلْبِ ایمان کا خوف نہ ہو نَزع کے وَقت اُس کا ایمان سَلب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ۔  ‘‘

زندَگی اور موت کی ہے یا الہٰی کشمکش

جاں   چلے تیری رِضا پر بے کس و مجبور کی

ایک ’’  غَلَط لَفظ ‘‘  بھی جہنَّم میں  جھونک سکتا ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !   اچّھی صحبتیں   کمیاب(کَم ۔ یاب) ہوگئیں   ! زَبان کی عَدَمِ حفاظت کا دَور دَورہ ہو گیا !  ہماری اکثرِیَّت کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ جو منہ میں  آیا بک دیا ! افسوس !  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشی اور ناخوشی کا احساس کم ہو گیا ۔  زَبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی اَھمِیَّت (اَ ۔ ھَمْ ۔ مِیْ ۔ یَت)کے تعلُّق سے ایک عبرت انگیز حدیثِ پاک مُلاحَظہ فرمائیے ۔   چُنانچِہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّرپسینہ، باعِثِ نُزُولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے :  بندہ کبھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی بات کہتا ہے اور اُس کیطرف توجُّہ بھی نہیں   کرتا(یعنی بعض باتیں   انسان کے نزدیک نہایت معمولی ہوتی ہیں   )  اللہ تعالیٰ اُس (بات) کی وجہ سے اُس کے بَہُت سے دَرَجے بُلند کرتا ہے ۔  اور کبھی اللہ پاک کی ناراضگی کی بات کرتا ہے اور اُس کاخیال بھی نہیں   کرتااِس(بات)  کی وجہ سے جہنَّم میں   گرتا ہے ۔ (بُخاری ج۴ ص۲۴۱ حدیث ۶۴۷۸) اور ایک رِوایت میں   ہے کہ مشرِق و مغرِب کے درمیان میں  جو فاصِلہ ہے اُس سے بھی زیادہ فاصِلہ پر جہنَّم میں   گرتا ہے ۔  (مُسنَد اِمام احمدج۳ ص۳۱۹ حدیث ۸۹۳۱)

بک بک کی کہیں   لَت نہ جہنَّم میں  گِر اد ے

اللہ زَباں   کا ہو عطا قُفلِ مدینہ

ہاتھ میں   آگ کی چنگاری

            آج کل حالات ناگُفْتہَ بِہ ہیں  ، دنیا کی مَحَبَّت اکثر کے دل پر غالِب ہے ، ایمان کی حفاظت کا ذِہن کم ہو گیا !  ایمان بچانا بھی ضَروری ہے مگر اِ س کیلئے کوشِش کرنے کا کوئی خاص جذبہ نہیں  ، ایمان کو سنبھالنا اور احکامِ اسلام کی پَیروی کرنا نفسِ بدکار پر ایک اَمْرِ دشوار ہے ۔  میرے آقائے نامدار ، مدینے کے تاجدار، نبیوں   کے  سردار ، سرکارِ والا تبار، ہم غریبوں   کے غمگسار، شفیع روزِ شمار، محبوبِ پروردگار ، جنابِ احمدِمُختار عَزَّوَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کافرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ لوگوں   پرایک ایسا زمانہ بھی آئے گاکہ اُس وَقت لوگوں   کے درمیان اپنے دین پرصَبْر کرنے والا ، آگ کی چِنگاری پکڑنے والے کی طرح ہو گا ۔ (سُنَنُ التِّرمذی ج ۴ص ۱۱۵حدیث ۲۲۶۷ )

گناہوں   نے میری کمر توڑ ڈالی              مِرا حشر میں   ہو گا کیا یا الہٰی عَزَّوَجَلَّ

بنادے مجھے نیک ، نیکوں   کا صدقہ          گناہوں   سے ہر دم بچا یا الہٰی عَزَّوَجَلَّ

سنّت کا ترک کہیں  کفر تک نہ پہنچادے  !

            حضرتِ سیِّدُنا ابو محمدسَہْل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کافرمانِ عبرت نشان ہے :  خوف کااعلیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ اپنے بارے میں   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے علمِ اَزَلی کے تعلُّق سے ڈرتا رہے (کہ نہ جانے میرے بارے میں  کیا طے ہے ، آیا اچّھا خاتِمہ یا کہ بُرا خاتمہ  ! ) اور اِس بات سے بھی خوفزدہ رہے کہ کہیں   کوئی کام خِلافِ سنّت( یعنی سنّت کو مٹانے والی بُری بدعت کا اِرتکِاب) نہ کر بیٹھے جس کی نُحُوست اُسے کفر تک پہنچا دے ۔  ( قُوتُ القلوب ج۱ ص ۴۶۷)

دنیا میں   ہر آفت سے بچانا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ                               عُقبیٰ میں   نہ کچھ رنج دکھانا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ

 



Total Pages: 147

Go To