Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

کسی نے کہا میں   اللہتعالیٰ کو دنیا میں   آنکھ سے دیکھتا ہوں   یہ کہنا کفر ہے ۔ مزید لکھتے ہیں   : جس نے اپنے لیے دیدارِ خدا وندی کا دعویٰ کیا اور یہ بات صَراحت کے ساتھ (یعنی بالکل واضح طور پر) کی اور کسی تاویل کی گنجائش نہیں   چھوڑی تو اس کایہ اِعتِقاد فاسِد ا و ر دعوٰی غَلَط ہے وہ گمراہی کے گڑھے میں   ہے اور دوسرے کو گمراہ کرتا ہے ۔  (مِنحُ الرّوض ص۳۵۴، ۳۵۶ ) 

کیا خواب میں   دیدارِ الٰہی ممکن ہے ؟

سُوال :  کیا خواب میں   دیدارِ الہٰیعَزَّوَجَلَّ ہو سکتا ہے ؟

جواب :   ہو سکتا ہے ۔ امامِ اعظم ، فَقِیہِ اَفْخَم ، شَمسُ الْاَئمّہ ، سِراجُ ا لْاُمّہ حضرتِ سیِّدُنا امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے خواب میں   سو بار پروردگارعَزَّوَجَلَّ   کا دیدار کیا ۔  چُنانچِہ منقول ہے :  آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اللہ تعالیٰ کی 99مرتبہ خواب میں   زیارت کی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے دل میں  کہا کہ اگر میں   اللّٰہُ غفّارعَزَّوَجَلَّ کا پورے سو بار دیدار کروں   گاتو اُس سے عرض کروں   گاکہ یااللّٰہ !  تُو مخلوق کو اپنے عذاب سے کس طرح نَجات دے گا ؟ چُنانچِہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت کی جب100 ویں   بار زیارت کی تو اس سے سُوال عرض کیا اور  اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے جواب ارشاد فرمایا ۔ (الخیرات الحسان  ص ۲۳۴ )( اللہ  عَزَّوَجَلَّنے کیا جواب ارشاد فرمایا یہ محوّلہ کتاب میں   منقول نہیں   ) اللّٰہُرَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      

حکایت

            ایک اور حکایت مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنایَحْیٰیبِن سَعید قَطَّان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   نے  اللہ  عَزَّوَجَلَّ   کو خواب میں   دیکھا ، عرض کی :  الہٰی عَزَّوَجَلَّ ! میں   اکثر دُعا کرتاہوں   ۔ اور تُو قَبول نہیں  فرماتا ؟ حُکم ہوا :  ’’ اے یَحْیٰی !  میں   تیری آواز کو دَوست رکھتا ہوں   ۔  ‘‘  (اِس واسطے تیری دُعا ء کی قبولیّت میں   تاخیر کرتا ہوں)(الرّسالۃُ القُشیریۃ  ص ۲۹۷، اَحْسَنُ الوِعَا ء ص ۳۵)                         

حمد و نعت، منقبت اور شُعرا   کے بارے میں   سُوال جواب

حمد و نعت اور منقبت کسے کہتے ہیں  ؟

سُوال :  حمد و نعت اور منقبت کے معنیٰ بتا دیجئے ۔

جواب :   تینوں   کے لفظی معنیٰ قریب قریب ایک ہی ہیں   یعنی تعریف و توصیف ۔ مگر مجازی معنیٰ جد اجُدا ہیں  ۔ لہٰذا حمد کا لفظ خدا کی تعریف کیلئے بولا جاتا ہے ۔  سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی تعریف کو نعت اور صحابۂ کرام و اولیائے عُظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی خوبیوں   کے بیان کو منقبت کہتے ہیں   ۔

            آج کل عام شعرا  ’’  نعت  ‘‘  کم ہی لکھتے ہیں    ۔ عُمُوماً ان کے کلام ہِجرو فِراق ، مدینۂ منوّرہ کی حاضِری کی تڑپ یا ’’ استِغاثہ ‘‘  یعنی فریاد پر مشتمل ہوتے ہیں   ۔ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں   فریاد کرنا اور امداد طلب کرنا بے شک جائز ہے ۔  مُتَذَکَّرہ تمام کلام عرفِ عام میں   نعت ہی کہلاتے ہیں   اور اس میں   حرج بھی نہیں  ۔ نعت کے مَعنوی اعتبار سے نعتیہ اشعار لکھنا بَہُت دشوار ہوتا ہے ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس فن میں   بھی ماہِر تھے ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حقیقی معنوں   میں   بھی مُتَعَدَّد نعتیں   لکھی ہیں   مَثَلاً  ’’  سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ‘‘   ’’  زمین و زماں   تمہارے لئے  ‘‘  وغیرہ ۔  نیز دیگر کلاموں   میں   بھی بے شمار نعتیہ اشعار پائے جاتے ہیں  ۔ نعت لکھنے کا اُسلُوب بھی کیسا لاجواب ہے چُنانچِہ فرماتے ہیں      ؎

طُوبیٰ [1]میں   جو سب سے اُونچی نازُک نکلی سیدھی شاخ

مانگوں   نعتِ نبی لکھنے کو رُوح قُدس سے ایسی شاخ(حدائقِ بخشش شریف) 

  نعتیہ شاعری کرنا کیسا ؟

سُوال :  نعتیہ شاعری کرنا کیسا ہے ؟

جواب :   سنّتِ صَحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ہے یعنی بعض صَحابہ مَثَلاً حسّان بن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرھما سے نعتیہ اشعار لکھنا ثابت ہے ۔  تاہم یہ ذِہن میں   رہے کہ نعت شریف لکھنا نہایت مُشکِل فن ہے ، اِس کے لیے ماہِرِفَن عالِمِ دین ہونا چاہئے ، ورنہ عالِم نہ ہونے کی صورت میں   رَدیف، قافِیہ اوربَحر(یعنی شعر کا وزن)وغیرہ کو نبھانے کیلئے خلافِ شان الفاظ ترتیب پا جانے کا خَدشہ رہتا ہے ۔  عوامُ النّاس کو شاعِر ی کا شوق چَرانا مناسِب نہیں   کہ نَثر کے مقابلے میں   نَظم میں   کُفرِیّات کے صُدُورکازیادہ اندیشہ رَہتا ہے  ۔ اگر شرعی اَغلاط سے کلام محفوظ رہ بھی گیا تو ’’ فُضولیات  ‘‘  سے بچنے کا ذِہن بَہُت کم لوگوں   کا ہوتا ہے ۔  جی ہاں   آج کل جس طرح عام گفتگو میں   فُضول الفاظ کی بھر مار پائی جاتی ہے اِسی طرح ’’  بیان ‘‘  اور ’’  نعتیہ کلام ‘‘  میں   بھی ہوتا ہے ۔  

کیا غیر عالم نعت نہیں   لکھ سکتا ؟

سُوال :  کیا غیر عالم نعت شریف نہیں   لکھ سکتا ؟اور اُس کی نعت پڑھنی سننی بھی نہیں   چاہئے ؟

جواب :  جو علمائے اہلسنّت کا صحبت یافتہ ہو، شریعت کے ضروری احکام جانتا ہو اور ہر ہر مِصرع شرعی تفتیش کسی عالمِ سے کروا لیا کرتا ہو اس کے لکھنے اور اُس کا لکھا ہوا علماء کا تفتیش شدہ کلام



[1]    جنّت کے سب سے اونچے درخت کانام طُوبیٰ ہے ۔



Total Pages: 147

Go To