Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

درد ہوا جس کے سبب میں   ساری رات نہ سو سکا ۔ میں   نے دوسرے دن اپنے چچا جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان کی خدمت میں   شکایت کی کہ میں   داڑھ کے درد کی وجہ سے ساری رات نہ سو سکا ۔ اس بات کو میں   نے تین باردُہرایا ۔  اِس پر اُنہوں   نے فرمایا :  تم نے ایک ہی رات میں   ہونے والے اپنے دَرد کی اتنی زِیادہ شکایت کر ڈالی !  حالانکہ میری آنکھ کو ضائِع ہوئے تیس برس ہو چکے ہیں  ، (اگر چِہ دیکھنے والوں   کو معلوم ہو مگر اپنی زبان سے ) میں   نے کبھی کسی سے اِس کی شکایت نہیں   کی ! (اِحیاء العلوم  ج ۴   ص ۱۶۴)اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔                                 اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مُصیبت زدو مت گھبراؤ !

سُوال : جو لوگ پریشانیوں   اور تنگ دستیوں   وغیرہ کی وجہ سے شکوہ وشِکایت کرتے بلکہ بعض اوقات مَعاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کُفریہ کلِمات بک دیتے ہیں  ایسوں   کو کس طرح سمجھایا جائے ؟

جواب : ایسے لوگوں   کو پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں   کا احساس دلا کر سمجھایا جا سکتا ہے چُنانچِہپارہ 14 سورۃُ النَّحلآیت نمبر 18 میں   ارشادِ قراٰنی ہے :

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ- (پ۱۴ النَّحْل ۱۸)

تَرجَمَۂ کنزالایمان : اور اگر اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی نعمتیں   گِنو تو انہیں  شمار نہ کر سکو گے  ۔

              بندے کو چاہئے کہ ان نِعمتوں   پراللہ عَزَّوَجَلَّ  کا شکر ادا کرتا رہے کہ اِس طرح نعمتوں   میں   اِضافہ ہوتا چلا جائے گا جیسا کہ ہمارے پیارے  اللّٰہُ کریمعَزَّوَجَلَّکاپارہ 3 1سورۂ ابراھیم آیت نمبر7میں   ارشادِ عظیم ہے :  

لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ۱۳ ابراھیم  ۷)

تَرجَمَۂ کنزالایمان : اگر اِحسان مانو گے تو میں   تمہیں   اور دوں   گا ۔

              جو نادان انسان خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی نعمت و احسان کا کُفر ان  (یعنی ناشکری) کرتے ہیں   ان کوخدائے مجیدعَزَّوَجَلَّنے عذابِ شدید کی وعید بھی ارشاد فرمائی ہے ۔  چُنانچِہ اِسی آیتِ کریمہ میں   آگے بیان کیا گیا ہے :

وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (پ۱۳ ابراھیم  ۷)

تَرجَمَۂ کنزالایمان : اور اگر ناشُکْری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ۔

            ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ مؤ مِنین و مؤمِنات کو اِمتحانات میں   مبتَلاکر کے ان کے سیِّئآت( یعنی گناہوں   کو) مٹاتا اور دَرَجات بڑھاتا ہے ۔  لہٰذا جب بھی مصیبت آئے پارہ 20  سُورۃُالعَنْکَبُوتکی دوسری آیتِ کریمہ کو ذہن میں   لے آیئے :

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) (پ ۲۰ العنکبوت ۲)

تَرْجَمَۂ کنزالایمان : کیا لوگ اس گَھمنڈ میں   ہیں   کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں   کہ کہیں  : ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی  ۔

عام مسلمان بھی آزمائے جاتے ہیں 

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یاد رکھئے  ! صِرف انبیاء و مُرسلین عَلَیْہِمُ السَّلَام ، صَحابہ و تابِعین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجمَعِیناور اولیاء کامِلین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین کا ہی امتحان نہیں   لیا جاتا ، عام مسلمان بھی آزمائے جاتے ہیں   ۔ اور پھر صَبْر کر کے خوب اَجرکماتے ہیں  ۔ چُنانچِہ خدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ رحمت نشان ہے :

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)(پ ۲ البقرۃ ۱۵۵ تا ۱۵۷)

 تَرْجَمَۂ کنزالایمان : اور ضَرور ہم تمہیں   آزمائیں   گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں   اور جانوں   اور پھلوں   کی کمی سے اور خوشخبری سُنا ان صَبْر والوں   کو کہ جب ان پر کوئی مُصیبت پڑے تو کہیں   : ہم اللہ  (عَزَّوَجَلَّ)کے مال ہیں   اور ہم کو اسی کی طرف پِھرنا ۔  یہ لوگ ہیں   جن پر ان کے رب(عَزَّوَجَلَّّ) کی دُرُودیں   ہیں   اور رَحمت اوریِہی لوگ راہ پر ہیں   ۔

جے سوہنا مِرے دُکھ وِچ راضی

تے میں   سُکھ نو چُلھے پاواں

            خُدا کا ہر کام حکمت بھرا ہو تا ہے         

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  یقینا ربُّ الانامعَزَّوَجَلَّ  کے ہر کام میں  کثیرہا کثیر حِکمتیں   ہوتی ہیں  ، اُن حکمتوں   تک ہماری عقْلِ ناقص کی رَسائی نہیں  ۔ کبھی بندہ کو پریشانی میں   مبتَلا کر کے اس کے گُناہوں   کومٹایا یادَرَجات کو بڑھایا جا تا ہے ۔ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ کسی کام میں   اپنے لئے بِہتری سمجھتاہے حالانکہ وہ کام اِسکے لئے بِہتر نہیں   ہوتا  ۔ ربِّ کریم تَبَارَکَ وتَعَالٰی اپنی حکمتِ عظیم سے اِسے اُس سے بچا لیتا ہے ۔ چُنانچِہ پارہ2 سُورَۃُالبَقَرہکی آیت نمبر 216  میں  خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ حکمت نشان ہے :

وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ- ( پ۲ البقرۃ ۲۱۶)

ترجَمۂ کنزالایمان : قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں   پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں   بُری ہو ۔