Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

مراد معلوم نہیں   تو تکفیر نہ کرنے میں   حفاظت ہے اگرچِہ زیادہ ظاہر اس سے اِستخفاف(یعنی ہلکا جاننا ۔ توہین) ہی ہے ۔  (مترجم حاشیہ عالمگیری باب احکام المرتدین ص۲۵)

{48} ’’ میرے ظلموں   سے تجھے خدا بھی نہیں   بچائے گا ۔   ‘‘  یہ کہنا کفر ہے ۔

{49}کسی شخص سے کہا گیا :  ’’ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی رِضا طلب کرو ۔  ‘‘  اُس نے جوابدیا :  ’’ مجھے نہیں   چاہئے ۔  ‘‘ جوا ب دینے والے پر حکمِ کفر ہے ۔  (منح الروض ص ۵۲۲)

{50} کسی نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا :   ’’ اللہ  عَزَّوَجَلَّ   آپ کو جزائے خیر دے  ‘‘  محسن بولا : مجھے جزائے خیر نہیں   چاہئے ۔ محسن پر حکمِ کفر ہے  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                                               صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر اِعتِراض کے بارے میں   سُوال جواب

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  پر اعتِراض کرنا کیسا ؟

سُوال :  اللہ عَزَّوَجَلَّ پراعتِراض کرنا کیسا ؟

جواب :  قَطْعی کُفر ہے اور مُعترِض کافِر و مُرتَد  ۔

اللّٰہ پر اعتِراض کرنا کیوں   کُفر ہے ؟

سُوال :  یہ بھی وضاحت کر دیجئے کہ آخِر اعتِراض  کرنا کیوں   کُفر ہے ؟

جواب :  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  پر اعتِراض سے بچنے کا شریعت میں   حکم ہے اور ہر مسلمان کا حکمِ شریعت کے آگے سرِتسلیم خم ہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ خالِق و مالِک ہے ، اُسیعَزَّوَجَلَّ کے پیدا کردہ بندے کا اُسعَزَّوَجَلَّ پر  اعتِراض  کرنا اُس عَزَّوَجَلَّ کی شدید ترین توہین ہے ۔ مَعاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اگر  اعتِراض  کی اجازت دیدی جائے توپھر جس کی سمجھ میں   جو کچھ آئے گا وہ کہتا پھرے گا کہ مَثَلاً اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے فُلاں   کام کیوں   کیا ؟ فُلاں   کام کیوں   نہیں   کیا ؟ اِس کویوں   نہیں   اور یوں   کرنا چاہئے تھا وغیرہ وغیرہ ۔  اگرعَقلاً بھی دیکھاجائے تو  اعتِراض  کرنا غلط ہی ہے کیوں   کہ  اعتِراض  اُس پر قائم ہو تا ہے جس میں   کوئی خامی ہویا جو غلطیاں   یا غَلَط فیصلے وغیرہ کرتا ہوجبکہ ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی ذاتِ سِتُودہ صِفات ہر طرح کی خامی و خطا سے پاک ہے  ۔ ہاں   یہ بات جُدا ہے کہ ناقصُ العقل بندہ بعض باتوں   کی مصلحتیں   نہ سمجھ پائے ۔  بَہَرحال مسلمان کو چاہئے کہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے ہر کام کو مَبنی بر حکمت ہی یقین کرے خواہ اس کی اپنی عقل میں   آئے یا نہ آئے ۔ زَبان پر آناکُجا دل میں   بھی  اعتِراض  کو جگہ نہ دے ۔ اِس ضِمن میں   فتاوٰی رضویہ شریف جلد 29میں  موجود ایک تفصیلی فتوے سے سُرخیوں  اور اپنی بِساط بھرتَسہِیل([1]) (تَسْ ۔ ہِیل)کے ساتھ اقتِباس پیش کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں    ’’   اعتِراض  کرنا کیوں   کفر ہے ؟ ‘‘   اس کا جواب  اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  بَہُت اچّھی طرح سمجھ میں   آجائے گا چُنانچِہ میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت،  ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   :

ستَّر ہزار جادوگر سجدہ میں   گر گئے  !

             ’’ ابنِ جَریر ‘‘  نے حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا کہ جب سیِّدُنا موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو مولیٰ عَزَّوَجَلَّ نے رسول کر کے فرعون کی طرف بھیجا ، موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام   چلے تو ندا ہوئی، مگر اے موسیٰ !  فرعون ایمان نہ لائے گا ۔  موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام   نے دل میں   کہا :  پھر میرے جانے سے کیا فائدہ ہے ؟اس پر بارہ علماء ِ ملائکہ عُظامعَلَیْہِمُ السَّلَام نے کہا :  اے موسیٰ !  آپ کو جہاں   کا حکم ہے جایئے ، یہ وہ راز ہے کہ باوصفِ کوشِش(یعنی کوشِش کے باوُجُود) آج تک ہم پربھی نہ کُھلا ۔

            اورآخِرنَفعِ بِعثَت(یعنی رسول کے بھیجنے کا فائدہ) سب نے دیکھ لیا کہ دشمنانِ خدا ہلاک ہوئے ، دوستانِ خدانے ان کی(یعنی حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ السَّلَام   کی) غلامی اختیار کر کے عذاب سے نَجات پائی ۔ ایک جلسے میں   ستّر ہزار ساحِر سجدہ میں   گر گئے اور ایک زَبان بولے :

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۲۱)رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ(۱۲۲)             (پ۹ الاعراف ۱۲۱، ۱۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان : ہم ایمان لائے جہان کے رب پر، جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا ۔

            درسِ عطّاؔر : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  یاد رکھئے ! انبیائے  کرام  عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاممعصوم ہو تے ہیں   وہ ہرگز  اللہ  عَزَّوَجَلَّ پر اعتراض نہیں   کرتے ۔  سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دل میں   خیال آنا معاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ بر بِنائے اعتراض نہیں   حکمت پر غور کرتے ہوئے تھا، اور آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو حکمت کانوں   سے سنانے بتانے کے بجائے آنکھوں   سے دکھانے کی ترکیب فرمائی گئی اور وہ یہ کہ فرعون چُونکہ شَقیٔ اَزَلی ( یعنی ہمیشہ کیلئے بد بخت )تھا اس لئے ایمان نہ لایا مگر آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے اُس اَزَلی کافر کے پاس نیکی کی دعوت دینے کا ثواب کمانے کیلئے تشریف لے جانے کی بَرَکت سے 70 ہزار جادوگر ایمان لے آئے ۔

            میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مزیدفرمات



Total Pages: 147

Go To