Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

اور باعثِ ترقّیٔ دَرَجات ہوتی ہیں   ۔ چُنانچِہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، پیکرِ جُودو سخاوت، سراپا رحمت، محبوب ربِّ العزَّت  عَزَّوَجَلَّ  و  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اُس کے گناہ کی سزافوری طور پراُسے دنیاہی میں   دے دیتا ہے ۔  ‘‘   (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل ج ۵ ص۶۳۰حدیث ۱۶۸۰۶)

آخِرت کی مصیبت برداشت کرنا ممکن نہیں 

            آہ !  ہم تو سراپا گناہوں   میں   ڈوبے ہوئے ہیں  ، کاش ! جب بھی کوئی مصیبت پیش آئے اس وقت یہ ذِہن بنا نا نصیب ہو جائے کہ شاید آخِرت کے بجائے دنیا ہی میں   سزا دے دی گئی ہے  ۔ اِس طرح اُمّید ہے کہ صَبْر آسان ہو جائے گا ۔  خدا کی قسم ! مرنے کے بعد ملنے والی سزا کے مُقابلے میں   دُنیا کی سزا انتِہائی آسان ہے ۔  دُنیا کی مصیبت آدمی برداشْتْ کرہی لیتا ہے مگر آخِرت کی مُصیبت برداشت کرنا ناممکن ہے  یہاں   تک کہ اگر کوئی کہدے کہ میں   قَبْر یا جہنَّم کا عذاب برداشت کر لوں   گا تو وہ کافِر ہو جائے گا ۔  

 ’’ اللّٰہ بدمَعَاش کے ساتھ ہے  ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال : اگرکسی بدمَعاش سے بیزار ہوکر مَعَاذاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کوئی یوں   کہہ دے کہ  ’’ فُلاں   کو خوفِ خُدا اسلئے نہیں  کہ اللّٰہ تَبَارَکَ وتَعَالٰی خُود اُسکے ساتھ ہے کہ جا بیٹا … تُولوگوں   کی بہن بیٹی کے دوپٹیّ اُ تار، ان پر جُھوٹے اِلزامات لگاتو جو بھی کر میں   تیرے ساتھ ہوں  ۔  ‘‘ اس کے بارے کیا حُکْم ہے ؟

جواب : مذکورہ جملہ ربُّ العٰلمِین  عَزَّوَجَلَّ  کی شدید توہین کی وجہ سے کفر ہے ۔

کیچڑ میں   لِتھڑے ہوئے بچّہ سے درسِ عبرت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اللّٰہُ ربُّ العزَّتعَزَّوَجَلَّکے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے ۔  یہ ذِہن مت بنایئے کہ صِرف نیک بندوں   ہی پر امتحان آتا ہے ، بسا اوقات گنہگاروں   کو بھی مصیبتوں   میں   مبتلا کر کے اُن کو گناہوں   کی آلودَگیوں   سے پاک کیا جاتا ہے ۔  چُنانچہ ۔  مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اپنی دلپذیر تقریر میں   فرماتے ہیں  : حضرتِ بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کسی جگہ سے گزر رہے تھے ، مُلاحظہ فرمایا، ایک بچّہ کیچڑ میں   گر گیا ہے اور اس کے کپڑے و جسم لِتَھڑگئے ہیں  ، لوگ دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں  ، کوئی پرواہ بھی نہیں  کرتا ۔ کہیں   دُور سے ماں   نے دیکھا، دوڑتی ہوئی آئی، دو تھپَّڑ بچّہ کے لگائے ، کپڑے اُتار کر دھوئے ، اُسے غسل دیا ۔ حضرت( رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ) کو یہ دیکھ کر وَجد  آ گیا اور فرمایا کہ یِہی حال ہمارا اور رحمتِ الٰہی (عَزَّوَجَلَّ ) کا ہے ۔  ہم گناہوں   کی دَلدَل میں   لِتھَڑ جاتے ہیں  ، کسی کو کیا پرواہ !  مگر  رحمتِ الٰہی  (عَزَّوَجَلَّ ) کا دریا جوش میں   آتا ہے ، ہم کو مصیبتوں   کے ذَرِیعے دُرُست کیا جاتا ہے اور توبہ و عبادات کے پانی سے غسل دے کر صاف فرما تا ہے ۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان یہ حکایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں  : جب مہربان ماں   کچھ سزا دیکر تنبیہ کرسکتی ہے تو خالق و مالک اس سے کہیں   زیادہ مہربان ہے بعض اوقات سزا دیکر اصلاح فرماتا ہے  ۔ ( معلم ِتقریر ص ۳۳ )

  ’’  اللہ بخشے گا نہیں   تو کہاں   جائیگا !  ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال :  یہ کہنا : کیسا اللہ غفورٌ رَّحیم ہے  ’’ ضَرور بخشے گا، بخشے گا نہیں   تو جائے گا کہاں  !  ‘‘

 جواب  : جواللہ  تبارَکَ وَ تَعالٰی پر کسی دوسرے کو قادِر مانے اورربِّ غَفُورعَزَّوَجَلَّکو محکوم ومجبور قرار دے وہ کافر ہے ۔ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  قادِرِمُطلَق ہے ، سب پرحاکِم ہے ، سب اِسی کے محتاج ہیں  ، اِس پر کسی کا زور نہیں  چلتا ۔  مذکورہ جُملہ ’’  ضَرور بخشے گا، بخشے گا نہیں   تو جائے گا کہاں   !  ‘‘  میں   اللہ تعالیٰ کو مجبور و محکوم اور غیرِقادِر ماننے کا پہلو نُمایاں   ہے اِس جملے پر حکمِ کُفر ہے ۔

 ’’ فُلاں   اللّٰہ کو ٹھگتا ہے  ‘‘  کہنا کیسا ؟

سُوال :  بڑی رات کے نوافِل پڑھنے والے نے کہا :   ’’ میں   تو سال بھر کچھ نہیں کرتا بڑی رات کواللہ کو ٹھگ لیتا  ہوں ۔  ‘‘  یا کہا :  ’’ فُلاں   یوں   تو کبھی نَماز نہیں   پڑھتا مگر بڑی رات کو اللہ کو ٹھگ لیتا ہے ۔  ‘‘

جواب :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ٹھگ لیتا ہوں   ‘‘  اور ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ٹھگ  لیتا  ہے ۔  ‘‘ یہ دونوں   کلمات صَریح کفرِیّاتہیں  ۔ ان دونوں   باتوں   میں   اللّٰہُ ربُّ العٰلمینعَزَّوَجَلَّکو دھوکہ کھا جانے والا مانا گیا ہے جو کہ اُس کی شدید ترین توہین ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی توہین کرنے والا کافِر و مُرتد ہو جاتا ہے ۔

کیا اللہ کو سخی کہہ سکتے ہیں  ؟

سُوال :  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کو سخی کہہ سکتے ہیں   یا نہیں  ؟

جواب :   اللہ  عَزَّوَجَلَّ کو سخی نہیں   جَواد کہنا چاہئے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ جلد27 صفحہ165پرفرماتے ہیں  :  اسمائے اِلٰہِیّہ  تَوقِیْفِیَہ (یعنی قرآن وحدیث کی طرف سے اللہ

Total Pages: 147

Go To