Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

جلوۂ یار سے اِس کو بسانا ، یا اللہ مِری جھولی بھر دے

 ’’ اللہ صابِروں   کے ساتھ ہے  ‘‘  کا انکار

سُوال : کسی پریشان حال نے بپھر کر کہا : کہتے ہیں   ،  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ  صَبْر کرنے والوں   کے ساتھ ہے ۔  ‘‘ میں   کہتا ہوں   ، یہ سب بکواس ہے ۔  اِس طرح کہنا کیسا ہے ؟

جواب : کُھلاکُفْر ہے کہ اِس قول میں   ربُّ الْعٰلمینکی سخت توہین، اور اِس آیتِ قراٰنی کا اِنکاراور اسکی بھی توہین پائی جارہی ہے :

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)   (پ ۲ البقرۃ ۱۵۳)

تَرْجَمَۂ کنزالایمان :  بے شک اللہ (عَزَّوَجَلَّ )صابِروں   کے ساتھ ہے ۔

کربلا والوں   سے بڑھ کر مُصیبت زدہ کون ؟

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! پریشان حال کو چاہئے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا پر راضی رہے اوراپنے آپ کوسمجھاتے ہوئے دل ہی دل میں   کہے کہ شہیدان واَسِیرانِ کربلا عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر جو مُصیبتیں   آئی تھیں   وہ یقینا مجھ پر آنے والی مصیبتوں   سے کروڑوں   گُنازیادہ تھیں   مگر اُنہوں   نے ہنسی خوشی برداشت کیں   اور صَبْر کر کے جنّت کے حقدار بنے ۔  میں   کہیں   بے صبری کر کے آخِرت کی سعادت سے محروم نہ ہو جاؤں   ۔ یقینایقینا یقینادُنیوی پریشانیوں   ، تنگدستیوں   ، بیماریوں   وغیرہ میں   صَبْر کرنے والوں   کیلئے آخِرت کی خوب خوب راحت سامانیاں   ہیں ۔

مُصیبت کی عجیب حکمت

            حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام   نے اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کے در بار میں   عرض کی :  اے میرے ربُّ العزّت ! مومِن بندہ تیری اطاعت کرتا اور تیری معصیَّت (نافرمانی)  سے بچتا ہے (لیکن) تُواِس سے دنیا لپیٹ لیتا اور اس کو آزمائشوں   میں   ڈالتا ہے ۔  اور کافِر تیری اطاعت نہیں   کرتا بلکہ تجھ پر اور تیری مَعصیَّت (نافرمانی) پرجُرأَت کرتا ہے لیکن تُو اس سے مصیبت کو دُور رکھتا اور اُس کیلئے دنیا کُشادَہ کر دیتا ہے ( آخر اس میں   کیا حکمت ہے ؟) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وَحی فرمائی :  بندے بھی میرے ہیں  اور مصیبت بھی میرے اختیار میں   ہے اور سب میری حَمْد کے ساتھ میری تسبیح کر تے ہیں  ۔ مومِن کے ذِمّہ گناہ ہوتے ہیں   تو میں   اس سے دنیا کو دُور کر کے اس کو آزمائش میں   ڈالتا ہوں   تو یہ (آزمائش و مصیبت) اس کے گناہوں   کا کَفّارہ بن جاتی ہے حتّٰی کہ وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو میں   اسے نیکیوں   کا بدلہ دُوں   گا اور کافِر  کی (دُنیوی اعتبار سے ) کچھ نیکیاں   ہوتی ہیں   تو میں   اُس کیلئے رِزْق کُشادَہ کرتا اور مصیبت کو اُس سے دُور رکھتا ہوں   تویوں   اُس کی نیکیوں   کا بدلہ دنیا میں   ہی دے دیتا ہوں   حتّٰی کہ جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو میں   اُس کے گناہوں   کی اس کو سزادوں   گا ۔  (اِحیاء العلوم ج ۴ ص ۱۶۲)

اللہ عَزَّوََجَلَّکے نِظام کو الٹا کہنے والا کافر ہے

سُوال : اگر کوئی یوں   کہے :  ’’ اللہ  تَبَارَکَ وتَعَالٰیکے گھرکا تو سارا نِظام ہی اُلٹا ہے ۔  ‘‘  تو کیا حُکمِ شَرْعی ہے ؟

جواب : ایساکہنے والا کافِر ہو گیا  ۔ کیوں   کہ مذکورہ جُملَہ ربِّ مُبینعَزَّوَجَلَّ کی شدیدترین توہین ہے  ۔

 ’’ اللّٰہ مکّاروں   کا ساتھ دیتا ہے  ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال :  ’’  اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَیَّاروں   اور مَکَّاروں   کا ساتھ دیتا ہے ۔  ‘‘ یہ کہنا کیسا ہے ؟

جواب : کہنے والا کافِر ہو گیا کیوں   کہ یہ جُملَہ قُرآنِ مُبین کے صرِیح مُخالِف اوراللّٰہُ ربُّ الْعٰلمین  تَبَارَکَ وَتَعَالٰیکی سخت ترین توہین پر مَبنی ہے  ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  پر چھوڑ کردیکھ لیا !

سُوال : کسی نے مشورہ دیا :  بھائی  ! اپنا مُعامَلہاللہ  عَزَّوَجَلَّ  پر چھوڑ دیجئے ۔ جواب دیا :  ’’  میں   نے اللہ  عَزَّوَجَلَّ پر چھوڑ کر بھی دیکھ لیا، کچھ نہیں   ہوتا !   ‘‘  یہ جواب کیسا ہے ؟

جواب :  یہ جواب اللّٰہُ   مَتِین عَزَّوَجَلَّ کی توہین پر مبنی اور کُفر ہے ۔

اللہ کو حاسد کہنا کیسا ہے ؟

سُوال :  کوئی خوش خوش جا رہا ہو کہ راہ میں   پتّھر سے ٹھیس لگے اورپاؤں   زخمی ہو جائے اِس پر اگر وہ اِس طرح شکوہ کرے :  ’’  یااللّٰہ ! کیا تُو بھی میری خوشی پر حسد کرتا ہے ؟ ‘‘ اِس کا حکمِ شَرْعی بیان کردیجئے ۔

جواب :  خالص کلِمۂ کُفر ہے ، کیوں   کہ مَعَاذاللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اس نے اللّٰہُ واجِدعَزَّوَجَلَّ کو حاسِد کہہ کر اُس کی سخت ترین توہین کی ہے ۔

ہاتھوں   ہاتھ سزا

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ربُّ الانام عَزَّوَجَلَّ کے ہر کام میں  حکمتیں    ہی حِکمتیں   ہوتی ہیں   ۔ تکلیف پر صَبْر کر کے اجْر حاصِل کرنا چاہئے کیوں   کہ آفات وَبَلِیّات، کَفّارۂ سَیِّئآت



Total Pages: 147

Go To