Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

سرہِلانے والا بھی کافِر و مُرتدہو جاتا ہے اور شادی شدہ تھا تونِکاح ٹوٹ جاتا، کسی کا مُرید تھا تو بَیعت ختم ہو جاتی اور زندَگی بھر کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں   ، اگر حج کر لیا تھا تو وہ بھی گیا ، اب بعدِ تجدِید ایمان صاحِبِ استِطاعت ہونے پر نئے سِرے سے حج فرض ہو گا ۔

مُرتَد دوبارہ ایمان لائے تو نَماز روزے کے مسائل

سُوال :  اگر کوئی مسلمان مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ مُرتد ہو جائے تواُس کی سابِقہ نَماز و روزہ اورحج کے بارے میں   کیا مسئلہ ہے ؟نیز اگر دوبارہ مسلمان ہو جائے تو کیا احکام ہیں  ؟

 جواب :    مُرتد ہوتے ہی اُس کے پچھلے تمام نیک اَعمالبَشُمُول نَماز، روزہ، حج وغیرہ ضائِع ہو گئے ۔ دوبارہ ایمان لانے کے بعد یہ ہے کہ جونَمازیں   زمانۂ اسلام میں  قَضا ہوئی تھیں   اُن کی قَضاایمان لانے کے بعد بھی باقی ہے اور یِہی حکْم روزۂ رمضان کا ہے ۔  چُنانچِہ دُرِّمُختار میں  ہے :  ’’  اور زمانۂ اسلام میں   جو عبادتیں   ترک کیں  ، اِرتِدَادیعنی دین سے مُنْحَرِف ہونے (دین سے پھر جانے ) کے بعداز سرِ نو مسلمان ہونے پر ان کو دوبارہ ادا کرے ، کیونکہ نَماز اور روزہ کا ترک گُناہ ہے اور اِرتِدَاد کے بعد( اگر چِہ نیکیاں   برباد ہو جاتی ہیں   مگر) گناہ باقی رہتے ہیں   ۔ اگر (پہلے حج کر لیا ہو تب بھی )صاحِبِ استِطاعت ہونے پر حج نئے سِرے سے فرض ہوگا ۔  ‘‘ (دُرِّمختار ج ۶ ص ۳۸۳ ۔ ۳۸۵ ) ہاں   زمانہ ٔ اِرتدِاد میں   رہ جانے والی نَمازوں   اور دیگر عبادتوں   کی قضاء نہیں   ہے اور اس دوران جو عبادَتیں   کی ہیں   وہ مقبول بھی نہیں   ۔

مُرتَدین کی صُحبت سے ایمان برباد ہوسکتا ہے

سُوال : مُرتَد کی صُحبت میں   بیٹھنا کیسا ہے ؟

جواب :  حرام ہے ۔ یہ یاد رہے کہ بِغیر دلیلِ قَطعی صِرف شک کی بنا پر کسی کو مُرتَد نہیں   بول سکتے ۔ مُرتَدین کے ساتھ نِشَست وبَرخاست( یعنی اٹھنے بیٹھنے ) کیمُتَعَلِّق کئے جانے والے ایک سُوال کے جواب میں   میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ جلد 21صَفْحَہ 278 پر فرماتے ہیں  : ان کے پاس نِشَست و بَرخاست حرام ہے اُن سے مَیل جُول حرام ہے اگر چِہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں  ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) (پ۷ الانعام ۶۸)

ترجَمۂ کنزالایمان : اورجو کہیں   تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں   کے پاس نہ بیٹھ ۔

             اللہ  عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-   (پ ۲۸ المجادلۃ ۲۲)

ترجَمۂ کنزالایمان : تم نہ پاؤ گے ان لوگوں   کوجو یقین رکھتے ہیں  اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)  اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں   اُن سے جنہوں   نے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) اور اس کے رسول (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )سے مخالَفَت کی اگر چِہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاکُنبے والے ہوں   ۔

            فتاوٰی رضویہ جلد 14صَفْحَہ 328پرہے : مُرتَدّوں   میں   سب سے بد تر مُرتَد ’’  مُنافِق  ‘‘  ہے  ۔ یِہی وہ ہے کہ اِس کی صحبت ہزار کافِر کی صُحبت سے زیادہ مُضِر(نقصان دِہ) ہے کہ یہ(بظاہِر) مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہے ۔

    مُرتَد کی نَمازِ جنازہ کا حُکمِ شَرعی

سُوال : مرتد اور کافر کے جنازہ کی نماز ادا کرنے والے کے بارے میں   کیا حکمِ شرعی ہے ؟

جواب :             مرتد اور کافر کے جنازے کا ایک ہی حکم ہے ۔ مذہب تبدیل کرکے عیسائی(کرسچین) ہونے والے کا جنازہ پڑھنے والے کے بارے میں   پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت ، مجدددین وملت، حضرت علامہ مولاناشاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 9صَفْحَہ 170پرارشاد فرماتے ہیں  : اگر بہ ثُبوت ِ شرعی ثابِت ہو کہ میِّت عِیاذاً باللہ (خدا کی پناہ) تبدیلِ مذہب کرکے عیسائی(کرسچین) ہوچکا تھا تو بیشک اُس کے جنازہ کی نماز اور مسلمانوں   کی طرح اس کی تَجہیز وتکفین سب حرام قَطعی تھی ۔ قالَ اللہ تعالیٰ(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) :  

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ- ۔  (پ۱۰التوبہ  : ۸۴)

ترجَمۂ کنزالایمان : اور ان میں   سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑ ے ہونا ۔

            مگر نماز پڑھنے والے اگر اس کی نصرانیت (یعنی کرسچین ہونے )پر مطلع نہ تھے اور بربِنائے علمِ سابِق(پچھلی معلومات کے سبب) اسے مسلمان سمجھتے تھے نہ اس کی تجہیز وتکفین ونَماز تک اُن کے نزدیک اس شخص کا نصرانی(کرسچین) ہوجانا ثابت ہوا، توان اَفعال میں   وہ اب بھی معذور وبے قُصُور ہیں   کہ جب اُن کی دانِست(معلومات) میں   وہ مسلمان تھا، اُن پر یہ اَفعال بجالانے بَزُعْمِ خود شرعاً لازم تھے ، ہاں   اگر یہ بھی اس کی عیسائیت سے خبردار تھے پھر نماز وتجہیز وتکفین کے مُرتکب (مُر ۔ تَ ۔ کِب ) ہوئے قطعاً سخت گنہگار اور وبالِ کبیرہ میں   گرفتار ہوئے ، جب تک توبہ نہ کریں   نماز ان کے پیچھے مکروہ ۔ مگرمُعامَلۂ مُرتَدین پھر بھی برتنا جائز نہیں   کہ یہ لوگ بھی اس گناہ سے کافر نہ ہوں   گے ۔  ہماری شَرعِ مُطَہَّر صراطِ مُستقیم ہے ، اِفراط وتفریط (یعنی حد اعتدال سے بڑھانا گھٹانا) کسی بات میں   پسند نہیں   فرماتی، البتّہ اگر ثابت ہو جائے کہ اُنہوں   نے اُسے نصرانی جان کر نہ صرف بوجِہ حَماقت وجَہالت کسی غَرَضِ دُنیوی کی نیّت سے بلکہ خوداسے بوجہِ نصرانیّت مستحقِ تعظیم وقابل تجہیز وتکفین ونَمازِ جنازہ تصوُّر کیا تو بیشک جس جس کا ایسا خیال ہوگا وہ سب بھی کافِر ومُرتَد ہیں   اور ان سے وُہی مُعامَلہ برتنا واجِب جو مُرتدین سے برتا جائے  !



Total Pages: 147

Go To