Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

نابالِغ کا کُفربکنا

سُوال : اگرکوئی نابالِغ بچّہ کلِمۂ کُفْر بک دے تو کیا اُس پر بھی حکمِ کُفر لاگو ہو جاتا ہے ؟ اگر ہاں   تو پھر جب بالِغ ہونے کے بعد اُس کو پتا چلے کہ میں   نے نا بالِغی میں   کُفْر بکا تھا اور جو کُفْر بکا تھا کچھ کچھ یاد ہے صحیح طرح یاد بھی نہیں   تو اب کس طرح توبہ کرے ؟

جواب : نابالِغ سمجھدار کا کُفْر و اسلام مُعتَبَر ہے  ۔ میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اَہْلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن   فرماتے ہیں  : سمجھداربچّہ اگر اسلام کے بعد کفر کرے تو ہمارے نزدیک وہ مُرتَد ہوگا ۔   ‘‘  (ماخوذ ازفتاوٰی افریقہ ص ۱۶ ) معلوم ہوا بالِغ یا سمجھدار نابالِغ کفر کرے تو مُرتَد  ہوجائے گا ۔ اگر بالِغ ہونے کے بعد احساس ہوا اور اگر کُفْریہ قول یاد ہے تو خاص اُس سے توبہ کرے اوراگر شک ہے یا یاد نہیں   تو اُس مَشکوک کُفْریہ کلمہ سَمیت ہر قِسم کے کُفْر سے توبہ کرے ۔ یعنی اس طرح کہے :  ’’ میں   تمام کُفریات سے توبہ کرتا ہوں   ۔  ‘‘  پھر کلمہ پڑھ لے ۔

  نابالِغ بچّے کے مسلمان ہونے کا مسئلہ ؟

سُوال : والِدین میں   ایک کافر ہے اور دوسرا مسلمان  ۔ اس صورت میں   بچوں   کو مسلمان شمار کریں   گے یا کافر ؟

جواب : نابالغ مگرسمجھدار بچے کے مسلمان یا کافر ہونے میں   خود اسی بچّہ کا اعتبار ہے البتّہ ناسمجھ بچّہ میں   تفصیل یہ ہے کہ کافِر میاں   بیوی میں   سے اگر کوئی ایک مسلمان ہو گیا تو اُن کے نابالِغ ناسمجھ بچّے مسلمان ہونے والے کے تابِع ہوں   گے یعنی مسلمان مانے جائیں   گے لہٰذاکافر باپ زندہ ہو یا مر گیا ہو، ماں   کے قَبولِ اسلام سے ناسمجھ نابالِغ بچّے خود بخود مسلمان ہو گئے ۔ جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 26 صَفْحَہ327 پر فرماتے ہیں   :  ’’ ماں   کے مسلمان ہونیسے دونوں   نابالِغ بچّے مسلمان ہو گئے ۔  ‘‘  ہِدایہ ودُرِّمُختار وغیرہما میں   ہے :  ( فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام فرماتے ہیں   : )  بچّہ والدَین میں   بہتر دین والے کے تابع ہوتا   ہے ۔  (تَنْوِیرُ الْاَبْصَار ج۴ ص ۳۶۷)

نا بالِغ کا کُفر کس عُمر میں   مُعتَبَر ہے ؟

سُوال : نابالِغ بچّہ کا کفر کس عمر میں   مُعتبر ہے ؟

جواب : سات برس یا زیادہ عمر کا بچّہ جو کہ اچّھے بُرے کی تمیز رکھتا ہو وہ اگر کفر  کرے گا تو کافر ہو جائے گا کیوں   کہ اُس کا کفر و اسلام مُعتبر ہے ۔  ( مُلَخَّص از فتاوٰی رضویہ ج۱۴ ص ۲۴۲)

کافِر کو کافِر کہنا ضَروری ہے

 سُوال :  کافر کو کافر کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟

جواب :  کافِر کو کافِر کہنانہ صِرف جائزبلکہ بعض صورتوں   میں  فرض ہے ۔  صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مَوْلانامُفتی محمد امجَد علی اَعظمیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں  :  ’’ ایک یہ وَبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں   کہ ہم تو کافِر کو بھی کافِر نہ کہیں   گے کہ ہمیں   کیا معلوم کہ اِس کا خاتِمہ کُفْر پر ہو گا ۔   ‘‘ یہ بھی غَلَط ہے ۔  قُرآ نِ عظیم نے کافِر کو کافِر کہا اور کافِر کہنے کاحکْم دیا ۔ (چُنانچِہ ارشاد ہو تا ہے : )

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) (پ ۳۰ الکافرون  ۱)

تَرْجَمَۂ کنزالایمان  : تم فرماؤ اے کافرو  !

            اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو، تمہیں   کیا معلوم کہ اِسلا م  پرمرے گا، خاتِمہ کا حال تو خدا (عَزَّوَجَلَّ  )جانے ۔ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں  : بعض جاہِل یہ کہتے ہیں   کہ  ’’ ہم کسی کو کافِر نہیں   کہتے عالم لوگ جانیں   وہ کافِر کہیں  ۔  ‘‘  مگر کیا یہ لوگ نہیں   جانتے کہ عوام کے تو وُہی عقائِد ہونگے جو قُرآن و حدیث وغیرہُما سے عُلَمانے اُنھیں   بتائے یا عوام کے لیے کوئی شرِیعت جُداگانہ ہے ؟جب ایسا نہیں   تو پھر عالِمِ دین کے بتائے پر کیوں   نہیں   چلتے ! نیز یہ کہ ضَرورِیّا تِ (دین) کا انکار کوئی ایسا اَمْر نہیں   جو عُلَماہی جانیں  ۔ عوام جو عُلَما کی صُحْبت سے مُشَرَّف ہوتے رہتے ہیں   وہ بھی اُن سے بے خبر نہیں   ہوتے  ۔ پھر ایسے مُعامَلہ میں   پہلُوتَہی اور اِعراض(یعنی منہ پھیرنے ) کے کیا معنٰی !  (بہارِ شریعت حصّہ ۹ ص ۱۷۳ ، ۱۷۴)

قَطعی کافِر کے کفر میں   شک کرنے والا بھی کافِر ہو جاتا ہے

            مزیدبہارِ شریعت حصّہ اوّل میں  ہے :   ’’  مسلمان کو مسلمان، کافِر کو کافِر جاننا ضَرور یا تِ دین سے ہے .....قَطْعی کافِر کے کُفر میں   شک بھی آدَمی کو کافِر بنا دیتا ہے ....... اِس زمانہ میں   بعض لوگ یہ کہتے ہیں   کہ میاں  ! جتنی دیر اسے کافِر کہو گے اُتنی دیراللہ  اللہ  کرو یہ ثواب کی بات ہے ۔  اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں   کہ کافِر کافِر کا وظیفہ کر لو !  مقصود یہ ہے کہ اسے  کافِر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً(یعنی یقینی طور پر)  کافِرکہو، نہ یہ کہ اپنی صُلْحِ کُل سے اس کے کُفْر پر پردہ ڈالو ۔   ‘‘   (ماخوذازبہارِ شریعت حصّہ ۱ ص ۹۸)

کیا عا م آدَمی حکمِ کُفْر لگاسکتا ہے ؟

 سُوال : گھر کے فرد یا دوست وغیرہ کی کوئی بات سُن یا دیکھ کر کیا عام آدمی بھی اُس کو کافِر کہہ سکتاہے ؟

جواب :  جب کسی بات کیکُفْر ہونے کے بارے میں   یقینی طور پر معلوم ہو مَثَلاً کسی مفتی صاحِب نے بتایا ہو یا کسی مُعتبر کتاب مَثَلاً بہارِ شریعت یا فتاوٰی رضویہ شریف وغیرہ میں   پڑھا ہو تب تو اُس کُفری بات کو کُفر ہی سمجھے ورنہ صِرف اپنی اٹکل سے ہرگز ہرگز ہرگز کسی مسلمان کو کافر

Total Pages: 147

Go To