Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

(۲) لُزُومِ کُفر عینِ کُفر تو نہیں   ہو تا مگر کفر تک لے جانے والا ہوتا ہے ۔  یعنی کلام کا انجام اور حکم کا لازم کفرِ حقیقی ہے ۔  مراد یہ کہ اگر مُقَدَّمات کو ترتیب دیا جائے اور تقریبات کو مکمل کرتے جائیں   تو بالآخر کسی ضروری دینی کا انکار لازم آئے ۔ اس کی بَہُت سی صورتیں   ہوتی ہیں    ۔

 اختِلافی کُفر کے بارے میں   حُکم

سُوال :  ایسے شخص کے بارے میں   کیا حکم ہے جس کے  ’’  قول  ‘‘ کے کُفر ہونے نہ ہونے میں  اَئِمّۂ دِین  یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمین کا اِختِلاف ہو ۔

جواب :  ایسا شخص اگر چِہ اسلام سے خارِج نہیں   ، تاہَم اس کیلئے توبہ وتجدیدِ ایمان و نکاح کا حکم ہے ۔  چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  :  ’’ پھر جبکہاَئِمّۂ دِین (یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمین )ان کے کفر میں  مُختَلف ہوگئے تو راہ یہ ہے کہ اگر اپنا بھلا چاہیں   جلد اَز سرِنَو کلمۂ اسلام پڑھیں   ۔  ‘‘  چندسُطُور بعد مزید فرماتے ہیں  :  ’’  اس کے بعد اپنی عورَتوں   سے تجدیدِ نکاح کریں   کہ کفرِخِلافی(یعنی جس قول یا فعل کے کُفر ہونے میں  فُقہا اور مُتَکِلّمینکا اِختِلاف ہو اُس) کا حُکم یِہی ہے ۔   ‘‘  ( فتاوٰی رضویہ ج ۱۵ص ۴۴۵ ، ۴۴۶)

 کُفرِ لُزُومی میں   اَعمال برباد ہو جاتے ہیں   یا نہیں  ؟

سُوال : جس کے کسی قول یا فعل کے کفر ہونے میں   اَئمّۂ دین یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمینکا اِختِلاف ہو، کیا اُس کے بھی تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں  ؟

جواب : نہیں  ۔ کیوں   کہ یہ کُفرِلُزُومی  ہے اور ایسا شخص اسلام سے خارِج نہیں   ہوتا ، اِس کا نکاح بھی نہیں   ٹوٹتا اس کی بیعت بھی برقرار رہتی ہے اور اس کے سابِقہ اعمال بھی برباد نہیں   ہوتے ۔  البتّہ اس کیلئے تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حُکم ہے ۔  چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہْلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نقل کرتے ہیں   : علّامہ حسن بن عَمّار شُرُنبُلا لی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الوالی )  شَرحِ وَھبانِیہ میں   پھرعلّامہ عَلائی (علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الباقی) شَرحِ تَنویر میں  فرماتے ہیں   :  ’’  جومُتَّفِقہ کفر ہو وہ اَعمالِ صالِحَہ اور نکاح کو باطِل کر دیتا ہے اور اسکی اولاد اولادِ زِنا ہوگی ۔  اور جس(قول یا فِعل کے کفر ہونے ) میں   خِلاف (یعنی اِختِلاف) ہو تو اسے اِستِغفار ، توبہ ا و ر تجدیدِ (ایمان و) نِکاح کا حکْم دیا جائے گا ۔  ‘‘  ( فتاوٰی رضویہ ج ۱۵ ص۴۴۶)

کیاقَطْعی کُفر میں   بھی اِختِلاف ہو سکتا ہے ؟

سُوال :   اگر کُفْرقَطْعی ہو ( مَثَلاً قادِیانی کا کُفْر) اور کوئی مفتی اس میں   اختِلاف کرے تو کیا حکْم ہے ؟

جواب :  وہ ’’   مفتی  ‘‘  ہی نہیں   جوقَطْعی کُفْر میں  اختِلاف کرے بلکہ عوام کے ساتھ ساتھ ایسے مفتی کا حکم بھی  فُقَہا ئے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام کے نزدیک یہ ہے :  مَنْ شکَّ فِیْ عَذَابِہٖ وَ کُفْرِہٖ فَقَدْ کَفَرَ ۔ یعنی جو اُس(قَطْعی کفر بکنے والے کافِر) کے عذاب اور کفر میں   شک کرے وہ خود کافِر ہے ۔  ( دُرِّمُختار ج۶ ص۳۵۶)

مسلمان کو کافِر کہنا کیسا ؟

  سُوال : کسی سُنِّی صحیح العقیدہ  مُسلمان کو کافِر کہنا کیسا ہے ؟

جواب :  صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدْرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مَولانامفتی محمدامجد علی اَعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں   :  ’’  کسی مُسلمان کو  کافِر کہا تو تعزِیر (یعنی سزا)ہے ۔  رہا یہ کہ وہ قائِل(یعنی مسلمان کو کافر کہنے والا)خود کافِر ہوگا یا نہیں  ، اِس میں   دو صُورَتیں   ہیں   : {1} اگر اسے مسلمان جانتا ہے تو  کافِرنہ ہوا اور{2} اگر اسے  کافِر اِعتِقاد کرتا ( یعنی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ کافر ہے ) تو خود کافِر ہے کہ مسلمان کو  کافِر جاننا دینِ اسلام کوکُفْرجاننا ہے اور دینِ اسلام کوکُفْرجاننا کُفْر ہے ۔  ہاں  اگر اس شخْص میں   کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بِنا پر تَکفیرہوسکے اوراس نے اُسے  کافِر کہااور کافِر جانا تو(کہنے والا)  کافِر نہ ہوگا ۔  (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار  ج ۶ ص ۱۱۱ )  نیز فرمایا : (مسلمان کوبطور گالی) بدمذہب، مُنافِق، زِندیق ، یہودی، نصرانی، نصرانی کا بچّہ، کافِر کا بچّہ کہنے پر بھی تَعزِیر (سزا)ہے ۔  ‘‘  (بہارِشریعت حصّہ ۹ ص ۱۲۶، ۱۲۷، دُرِّمُختارج ۶ ص ۱۱۲ ،  اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج۵ ص۷۴)البتّہ جو واقِعی  کافِر ہے اُس کو کافِر ہی کہیں  گے ۔

دوسرے کے بارے میں   کافر ہونے کی آرزو

سُوال : زید نے بکر سے کہا :   ’’   کاش !  تُوسِکھ ہوتا کہ کم از کم تیرے چِہرے پر داڑِھی تو ہوتی ۔  ‘‘ زید کے بارے کیا حُکم ہے ؟

جواب : زید بے قید کے اِس قولِ بد تراَز بَول میں   کُفْر پر راضی رَہنا پایا جارہا ہے یہ کہنا کفر ہے حضرت عَلَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی نقْل کرتے ہیں   :  ’’ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنِیفہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے :  کسی کے کُفْر پر راضی ہونا بِغیر کسی تفصیل کے کُفْر

Total Pages: 147

Go To