Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

جواب :  جی ہاں   دن میں   چاہیں   تو 112بارکر لیجئے ۔  مَدَنی مشورہ ہے  روزا نہ کم از کم ایک بار مَثَلاًسونے سے قَبل(یا جب چاہیں  ) اِحتیاطی توبہ و تجدیدِ ایمان کرلیجئے اور اگر بَآسانیگواہ دستیاب ہوں   تو میاں   بیوی توبہ کر کے گھر کے اندر ہی کبھی کبھی اِحتِیاطاًتجدیدِ نکاح کی ترکیب بھی کرلیا کریں   ۔ ماں  ، باپ ، بہن بھائی اور اَولاد وغیرہ عاقِل وبالِغ مسلمان مرد و عورت نِکاح کے گواہ بن سکتے ہیں   ۔ احتیاطی تجدیدِ نکاح بالکل مفت ہے اس کے لئے مَہر کی بھی ضَرورت نہیں   ۔

  شوہر مُرتَد ہو جائے تو بیوی کیا کرے ؟

سُوال :  عورت کو شوہر کے اِرتِداد کی اطِّلاع ملی تو کیا وہ نِکاح سے آزاد ہوگئی ؟

جواب :  جی ہاں   اُس کانِکاح ٹوٹ گیا ۔ چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام فرماتے ہیں   : عورت کو خبر ملی کہ اس کا شوہر مُرتَد ہوگیا تو عِدّت گزار کر (کسی اور سے )نِکاحکرسکتی ہے ۔  خبر دینے والے دو مرد ہوں   یا ایک مرد اور دو عورَتیں   بلکہ ایک عادِل کی خبر بھی کافی ہے ۔  (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۶ ص ۳۸۶)

مُرتَد توبہ کر کے عدّت کے اندر نکاح کر سکتا ہے یا نہیں 

سُوال :  زید مَعاذَاللّٰہ  صریح کفربک کر مرتدہوگیامگراسی دن نادِم ہوکراُس نے تجدیدِایمان کرلیا ۔ آیاتجدیدِنکاح بھی فوراًکرلے یاپہلے عورت کو عِدَّت گزارلینے دے ؟ عورت کو کتناعرصہ عِدَّت گزارنی ہوگی ؟ اگر دورانِ عِدّت ہی زید نے تجدیدِنکاح کرلیاتوکیاحکم ہے ؟

جواب : اگرکسی شخص نے مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ   صریح کلمۂ کفر بکاتووہ مُرتد ہو گیا اور اُس کی عورت نکاح سے نکل گئی، جو کچھ نیک اعمال کئے تھے سب اَکارت(یعنی ضائع ہو)گئے ۔ اگر نادِم ہوکر اُس نے تجدیدِ ایمان کر لیا تو اگروہ عورت راضی ہوتودوبارہ اُسی سے نکاح کر سکتا ہے اگرچِہ دورانِ عِدَّت ہی کرلے  ۔ ہاں   اگر وہ عورت اس کے علاوہ کسی اورسے نِکاح کرناچاہتی ہے توعدّت پوری کرنے کے بعد کرسکتی ہے ۔  اوراس صورت میں   عِدَّت کی وُہی تفصیل ہوگی جو مُطَلَّقہ عورت کی عِدّت کی ہے یعنی اگروہ عورت حامِلہ ہو تووَضعِ حمل(یعنی بچّہ کی ولادت ہو جانا) اور اگر عورت ، نابالِغہ یا آئِسہ یعنی پچپن سالہ یا اس سے زائد عمر کی ہے تو اُس کی عدّت ہِجری سِن کے حساب سے تین مہینہ ہوگی ورنہ حَیض والی ہوتوتین حیض ہوگی ۔  ’’ عدت کے تفصیلی مسائل ‘‘  کی آگاہی کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ182صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘ حصّہ8 صَفْحَہ126تا134کامُطالَعہ فرمالیجئے  ۔

مُشرِکہ کا شوہر مسلمان ہوگیا نکاح کا کیا بنا ؟

سُوال :  اگر شوہر مسلمان ہو گیا اور بیوی بُت پرست ہے تو بیوی کے ساتھ نِکاح برقرار رہا یا ٹوٹ گیا ؟

جواب :  صدرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطَّریقہ، حضرتِ علّامہ مَوْلانامُفتی محمد امجَد علی اعظمی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں   : عورت اگر مُشرِکہ ہے تو مسلمان کی زَوجِیت میں   نہیں   رہ سکتی ۔ اللہ  عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے :     لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّؕ- ترجَمۂ کنز الایمان : نہ یہ اُنہیں   حلال نہ و ہ اِنہیں    حلال ۔ (پ ۲۸مُمْتَحِنَہ۰ا) شوہر کے مسلمان ہونے کے بعد قاضی عورت پر اسلام پیش کرے گا اگر اسلام سے انکار کرے نِکاح جاتا رہے گا ۔  اور جہاں   قاضی نہ ہوں  جیسے آج کل ہندوستان میں   تو یہاں   عورت کوتین حیض آنے پرنِکاح ٹوٹ جائیگا  ۔ یہ حکم نِکاح ٹوٹنے کا ہے ۔ یعنی اگر تین حیض گزرنے کے بعد عورت بھی مسلمان ہو گئی اور اسی شوہر کے پاس رہنا چاہتی ہے تو جدیدِنِکاحکی ضَرورت ہو گی کہ اب وہ پہلا نِکاح جاتا رہا ۔  رہا عورت سے جِماع کرنا تو مرد کے اسلام لاتے ہی (اُس کافِرہ بیوی سے )حرام ہو گیا ۔ ( فتاوٰی امجدیہ ج۴ ص ۴۱۶)

بیوی مُرتَدہ ہو گئی تو نکاح ٹوٹا یا نہیں  ؟

سُوال :  اگرعورت مُرتَدہ ہو گئی تو شوہر کے نِکاح میں   رہی یا نہیں  ؟

جواب :  مرتدہ عورت نکاح سے نہیں   نکلتی  ۔ چُنانچِہمیرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ  میں   کچھ اِس طرح سُوال ہوا کہ حکمِ شریعت سُن کر ہِندہ جو کہ شادی شدہ ہے نے غصّہ میں   آ کر یا تو یہ کہا :   ’’  چُولھے میں   جائے ایسی شریعت ‘‘  یا پھر یوں   کہا :   ’’  مری پڑے ایسی شریعت ۔  ‘‘  الجواب :  ہِندہ نے پہلا فِقرہ کہا ہو خواہ دوسرا، (دونوں   جُملے صریح کفریات ہیں   لہٰذا) ہر طرح اس کا ایمان جاتا رہا کہ اِس نے شَرعِ مُطَہَّرہ کی توہین کی مگرہِندہ(مُرتدہ ہوجانے کے باوُجُود) نکاح سے نہ نکلی ، نہ اُسے رَوا (یعنی جائز )ہے کہ بعدِ اسلام کسی دوسرے سے نکاح کر لے ۔ ہاں  (چُونکہ وہ اپنے ارتِداد کے سبب اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہٰذا) بعدِ(قبولِ) اسلام سابِقہ شوہر ہی سے تجدیدِ نکاح پر مجبور کی جائے گی ۔  (فتاوٰی رضویہ ج۱۲ ص ۲۶۲ ۔ ۲۶۳مُلَخَّصاً)

  کیا سابِقہ مُرشِد ہی سے تجدیدِ بَیعت کر ے ؟

سُوال : قَطعی کُفر بکنے کے بعد تجدیدِ ایمان کی صورت میں   کیا سابِقہ پیر صاحِب ہی سے تجدیدِ بَیعت کرنی ہو گی ؟ اگر پیر صاحِب وفات پا گئے ہوں   تو کیا کرے ؟

جواب :  بَیعَت ٹوٹ جانے کی صورت میں   سابِقہ پیر صاحِب بَقَیدِ حیات ہوں   تب بھی دوبارہ اُنہیں   سے بَیعَت کرناضَروری نہیں  ، کسی بھی جامِعِ شرائط پیر صاحِب کیبَیعَت کی جاسکتی ہے ۔

اِسی کتاب ’’  کُفرِیہ کلمات کے بارے میں   سُوال جواب  ‘‘  کے مُتَعَلِّق  متوقع وَسوَسوں   کے بارے میں   سُوال جواب

کیا کلمہ گو بھی کافِر ہوسکتا ہے ؟

سُوال :   آپ نے اپنی کتاب  ’’ کفرِیہ کلمات کے بارے میں   سُوال جواب  ‘‘  میں   کھلے کافِروں   کو نہیں   بلکہ کلمہ پڑھنے والوں   کو کفریّات سے آگاہ کیاہے توکیاکوئی کلمہ گودوبارہ بھی کافِر



Total Pages: 147

Go To