Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

بَہُت تعریف لکھی ہے ۔  کئی وَرقوں   (یعنیصَفَحات )میں   اس مجلس کے حالات بیان کئے ہیں  ۔ مجلس تین دن ہوتی ہے ۔  ایک دفعہ آپ(یعنی امام شَعرانی) کو تاخیر ہو گئی ، یہ ہمیشہ(یعنی ہر سال) ایک دن پہلے ہی حاضِر ہو جاتے تھے ، اس دَفعہ آخِر دن پہنچے ۔  جو اولیا ئے کرام ( رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام)مزار ِمبارک پر مُراقِب تھے اُنھوں   نے (امام شَعرانی سے ) فرمایا  : کہاں   تھے ؟ دو روز سے حضرت(سیِّدی احمد بدوی کبیر علیہ رحمۃ القدیر) مزار ِمبارَک سے پردہ اُٹھا اُٹھا کر فرماتے ہیں  : عبدُ الوَہاب آیا ؟ عبدُالوَہاب آیا ؟ اُنھوں   نے (یعنی امام شعرانی نے ) فرمایا :  کیا حُضور(یعنی صاحبِ مزار) کو میرے آنے کی اِطِّلاع ہوتی ہے ؟ اُنھوں   نے فرمایا :  اِطِّلاع(بھی) کیسی ! حُضُور(یعنی صاحبِ مزار) تو فرماتے ہیں   کہ کتنی ہی منزِل پر کوئی شخص میرے مزار پر آنے کا ارادہ کرے ، میں   اس کے ساتھ ہوتا ہوں  ، اس کی حفاظت کرتا ہوں  ، اگر اس کا ایک ٹکڑا رسّی کا جاتا رہے گا اللہ تعالیٰ مجھ سے سُوال کریگا ۔  ( یہ حکایت بیان کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت نے فرمایا) اِن(یعنی امام شَعرانی) پر خاص توجُّہ تھی اور اِن کو (یعنی امام شعرانی کو)  بھی خاص نیاز مندی(خصوصی عقیدت )تھی ، اسی وجہ سے حضرت (سیِّدی احمد بدوی کبیر علیہ رحمۃ القدیر)کو ان سے خاص مَحَبَّت تھی ۔  حدیث میں   ہے :  ’’  جو کوئی دریافت کرنا چاہے کہ اللّٰہ کے یہاں   اُس کی کس قَدَر ، قَدرو منزَلَت ہے وہ یہ دیکھے کہ اس کے دل میں   اللہ  (عَزَّوَجَلَّ) کی کس قَدَر قَدرومَنزِلَت ہے اتنی ہی اس کی اللہ  (عَزَّوَجَلَّ) کے یہاں   ہے ۔  ‘‘  (ملفوظات اعلی حضرت حصّہ سوم ص ۳۶۱، مُسْنَد اَبِی یَعْلٰی ج۲ص۲۲۴حدیث ۶۰ ۸ ۱)

    مزار کو سجدہ کرنا کیسا ؟

 سُوال :   اپنے پیر صاحِب کو یا ان کی تصویر کو یا کسی بُزُرگ کے مزار کو سجدہ کرنا کفر ہے یا نہیں  ؟

جواب :  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے سوا کسی اور کو سجدۂ عبادت کرنا بے شک کُفر ہے جبکہ سجدۂ تعظیمی کرنا حرام اور جہنَّم میں   لے جانے والا کام ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : بِالفرض کبھی کوئی نادان مسلمان کسی مزار کوسَجدہ کرتانظر آئے تو اُس کے سجدہ  کوسجدۂ تعظیمیہی پر محمول کریں   گے کیوں   کہ یہ بَعید از قِیاس ہے کہ کوئی جاہِل سے جاہِل مسلمان بھی عبادت کی نیّت سے کسی بُزُرگ کے مزار کو سجدہ کرے ۔  ہاں   اگر یقینی طور پر معلوم ہو جائے مَثَلاً وہ خود اقرار کرے کہ میں   نے مزار کو عبادت کی نیّت سے سجدہ کیاہے تو بے شک کافر ہے ۔  نیّت معلوم نہ ہونے کے باوُجُود اُس کے سجدے کو محض اپنے قیاس سے خواہ مخواہ سجدۂ عبادت قرار دینا ایک مسلمان کے بارے میں   بدگُمانی ہی نہیں  بلکہ صریح اِفتِرائ(یعنی کھلی تہمت) ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں   لے جانے والا کام ہے ۔ (ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ج ۳۰ ص ۳۷۶)

مزار کے سامنے سے زمین چومناکیسا ؟

سُوال :  مزار کے سامنے زمین چوم سکتے ہیں   یا نہیں  ؟

جواب :  نہیں   چوم سکتے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ 474 پر فرماتے ہیں   :  ’’ مزارات کو سجدہ یا ان کے سامنے زمین چومنا حرام اور حدِّ رکوع تک جُھکنا ممنوع ۔  ‘‘ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  312 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘ حصّہ 16 صَفْحَہ115پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں  :  ’’  عالِم یا کسی بڑے کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے جس نے ایسا کیا اور جو اس پر راضی ہوا دونوں   گنہگار ہیں   ۔  ‘‘ (تَبْیِینُ الْحَقائِق ج ۷ ص ۵۶) مزید فرماتے ہیں   : بعض لوگ سلام کرتے وقت جھک جاتے ہیں   ، یہ جھکنا اگر حدِّ رکوع تک ہوتو حرام ہے اوراس سے کم ہو تو مکروہ ہے ۔  ( بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص ۱۰۷)  حضرت صدرُ الشَّریعہ رکوع کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گُھٹنوں   تک پہنچ جائیں   یہ رکوع کا ادنیٰ دَرَجہ ہے اور پورا یہ کہ پیٹھ سیدھی بچھاوے ۔  ( اَیضاً حصّہ ۳ ص ۸۱ ، دُرّمختار ج ۲ ص ۱۶۵ ۔ ۱۶۶ وغیرہ ) جب ظاہری زندوں   کے لئے یہ اَحکامات ہیں   تو مزارات کے مُعاملات میں   مزید محتاط رہنا ہو گاکہ اس کے نقصانات میں   سے یہ بھی ہے کہ شیطان بھولے بھالے مسلمانوں   کو وسوسے ڈال کر اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامکے مزارات اور اہلسنّت کے معمولات سے دور کرنے کی مذموم کوششیں   کریگا ۔ (ان مسائل کی تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد22 میں   سے رسالہ  ’’ اَلزُّبْدَۃُ  الزَّکِیَّۃُ لِتَحْرِیْمِ سُجُوْدِ التَّحِیَّۃ  ‘‘ کا مطالَعَہ فرما لیجئے )

سمجھانے پر ضد کرنے والے کی مذّمت

سُوال :  بعض اوقات دیکھا گیا ہے اگر کسی نے صریح کفر بک دیا اورسمجھاتے ہوئے توبہ، تجدیدِ ایمان وتجدیدِ نکاح کامشورہ دیا گیا تو وہ بپھرجاتا اور ضِد پر آجاتا ہے ایسے شخص کے بارے میں   کیا حکم ہے ؟

جواب : حکمِ شرعی سن کر گناہ پر ہٹ دھرمی کرنے والوں   پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ۔  پارہ 2سورۃُ البقرہآیت نمبر 206 میں   ارشادِ ربُّ العباد ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ(۲۰۶)

ترجَمۂ کنزالایمان :  اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اوروہ ضَروربَہُت بُرا بچھونا ہے ۔

   ’’ لوگ بے موت مررہے ہیں   ‘‘  کہنا کیسا ؟

سُوال :  دہشت گر دوں   کی طرف سے کئے جانے والے بم دھماکوں   میں   یکمشت کافی افرادکی ہلاکت پر یہ کہنا کیسا کہ حالات بہت خراب ہیں  ، بہت سارے لوگ بے موت مر رہے ہیں۔

جواب :     ’’ لوگ بے موت مر رہے ہیں   ‘‘  یہ الفاظ حکمِ قراٰنی کے خلاف ہونے کی وجہ سے بَہُت سخت ہیں   کیوں   کہ ’’  بے موت ‘‘  کوئی مر ہی نہیں   سکتا ۔ چُنانچِہ طاعون میں   بکثرت مرنے والوں   کے لئے اِسی طرح کے الفاظ استعمال کرنے والوں   کو تَنْبِیْہ(تَمْ ۔ بِیْہ یعنی خبردار) کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ



Total Pages: 147

Go To